خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 320 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 320

خطبات طاہر جلد ۱۱ 320 خطبہ جمعہ یکم مئی ۱۹۹۲ء متعلق میں نے عرض کیا تھا کہ وہ رحم کے نتیجہ میں بچائے جاتے ہیں ورنہ ان کی کوششیں حقیقت میں بنیادی طور پر اتنی اہلیت نہیں رکھتیں کہ ساری دنیا کو تبدیل کر سکیں ، نہ بیچاری تبدیل کر سکتی ہیں لیکن کوشش بڑی مخلصانہ ہوتی ہے پھر اندرونی کمزوریاں بھی رہ جاتی ہیں۔اگر کمزوریوں پر نظر کر کے اللہ پکڑنا چاہے تو ہم میں سے کوئی بھی بخشا نہیں جاسکتا۔تو رحم کا انصاف سے یہ گہرا تعلق ہے۔تم کوشش شروع کر دو۔دیانت داری سے کوشش شروع کرو پھر جس حالت میں بھی موت آئے گی اللہ تعالیٰ تمہیں نیکوں میں شمار کر دے گا۔إِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ کا یہ معنی ہے کہ سوائے ان لوگوں کے جن پر اللہ رحم فرمائے اور خدا کے رحم کا انصاف سے تعلق ہے۔ناانصافی سے تعلق نہیں ہے۔لِذلِكَ خَلَقَهُمُ اللہ نے اسی لئے پیدا کیا تھا کہ ان کے لئے مواقع مہیا کر دے کہ خدا کا رحم ان کو نصیب ہو جائے اور وہ بچائے جائیں لیکن ایسا نہیں ہوتا۔بہت تھوڑے ہیں جو خدا تعالیٰ کے رحم کا فیض پانے والے بنتے ہیں۔وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَا مَلَكَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ أَجْمَعِینَ اور یقیناً خدا کا یہ فیصلہ اپنے کمال کو پہنچا اور رونما ہو گیا کہ لَأَمْلَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ کہ میں ضرور جہنم کو جنات یعنی بڑے لوگوں سے وَالنَّاسِ اور عوام الناس سے بھر دوں گا۔جو مضمون بیان ہو رہا ہے اسی کی روشنی میں اس آیت کی سمجھ آجاتی ہے ورنہ یہ آیت بہت الجھنیں پیدا کرنے والی نظر آتی ہے۔ایک طرف اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس لئے زمین و آسمان کو پیدا فرمایا اور بنی نوع انسان کو پیدا فرمایا تا کہ اللہ ان پر رحم فرمائے۔إِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّک ان کے سوا نہیں بچائے جاتے جن پر خدارحم کر دیتا ہے اور فرمایا کہ وَ لِذلِكَ خَلَقَهُم اس رحم کی خاطر ، اس بچائے جانے کی خاطر ان کو پیدا فرمایا ہے اور ساتھ ہی کہہ رہا ہے کہ ہم نے عہد کر لیا تھا کہ جہنم کو چھوٹوں بڑوں سے بھر دیں گے تو جب عہد کر دیا تھا تو پھر رحم کا کیا سوال باقی رہتا ہے؟ لیکن وَ لِذلِكَ خَلَقَهُمْ اور وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَا مَلَكَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ أَجْمَعِينَ کو اکٹھا پڑھیں تو مضمون سمجھ میں آجاتا ہے۔اس سے پہلے یہ بیان ہوا ہے کہ خدا تعالیٰ زبر دستی کسی کو تبدیل نہیں کرتا اور چونکہ وہ علم الغَيْبِ (الانعام: ۷۴) ہے اس لئے وہ جانتا تھا کہ اکثر لوگ رحم سے فائدہ نہیں اُٹھائیں گے۔اکثر