خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 27 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 27

خطبات طاہر جلد ۱۱ 27 خطبہ جمعہ ۷ ارجنوری ۱۹۹۲ء دونوں پیغام ہیں لیکن جماعت احمدیہ پر جس شان کے ساتھ اس مضمون کا اطلاق ہوتا ہے اس سے میرے ذہن میں یہ بات ابھری کہ اس دنیا کے آپ ہی خادم ہیں اور آپ ہی مخدوم ہیں کیونکہ یہ دونوں صلاحیتیں یکجا طور پر جماعت احمدیہ کے سوا دنیا کی کسی اور جماعت میں اکٹھی نہیں مل سکتیں۔آپ نظر دوڑا کر دیکھیں مسلمان ہوں یا غیر مسلم ہوں۔ترقی یافتہ مغربی اقوام ہوں یا پیچھے رہ جانے والی مشرقی اقوام کسی مذہب سے تعلق رکھنے والی ہوں، کسی جغرافیائی حدود سے تعلق رکھنے والی ہوں، یہ اعلیٰ شان کا امتزاج کہ خادم مخدوم ہو جائے اور مخدوم خادم بن جائے ، یہ جماعت احمدیہ کے سوا دنیا میں کہیں دکھائی نہیں دے گا۔پس ان معنوں میں آپ نے اپنے عمل سے یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ آپ ہی حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی اس عظیم الشان عارفانہ تعریف کے مستحق اور اس تعریف کے نتیجہ میں آئندہ دنیا کے سردار بننے والے ہیں کیونکہ آپ کے اندر یہ دونوں صلاحیتیں اکٹھی کر دی گئی ہیں۔جہاں تک آئندہ زمانے کے حالات کا تعلق ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ یہ جلسہ ایک تاریخ ساز جلسہ تھا۔محض تاریخی جلسہ ہی نہیں تھا۔کیونکہ حضرت اقدس مسیح موعود ال کی بہت سی پیشگوئیاں اس کے ساتھ وابستہ ہیں اور ان پیشگوئیوں کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس جلسہ کے بعد خدا تعالیٰ اپنے فضلوں کی ہوا چلائے گا اور ہر طرف غیر معمولی ترقی کے سامان پیدا ہوں گے۔اس ضمن میں ایک خوشخبری تو ہندوستان چھوڑنے سے پہلے ہی وہاں مل گئی۔خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ سکھر کے دو اسیرانِ راہ مولی لمبی مشقتوں اور دُکھوں کے بعد آزاد کئے گئے۔آج صبح ہی کراچی میری بات ہوئی تو وہاں سے مجھے بتایا گیا کہ اللہ کے فضل سے یہاں تو جماعت میں ایک جشن کا سا سماں تھا اور بہت ہی عزت اور محبت سے جماعت نے ان سے سلوک کیا اور غیر معمولی خوشیوں کے سامان تھے تو یہ بھی اسی مقدس جلسہ کی برکتوں میں سے ایک برکت ہے۔اور اس یقین دہانی کے لئے کہ خدا کی طرف سے خاص تقدیر کے طور پر یہ نشان ظاہر ہوا ہے۔جب میں آج دفتر میں ڈاک دیکھنے گیا تو گوٹھ علم دین سندھ سے آئے ہوئے ایک خط میں ایک خواب درج تھی۔یہ گوٹھ علم دین کری ضلع تھر پارکر کے قریب ایک گاؤں ہے جہاں ابتداء میں کچھ احمدی ہوئے تھے اور ان کے اخلاص کی وجہ سے اور غیر معمولی خواہش کے نتیجہ میں کہ میں خود وہاں جاؤں۔بہت پہلے کی بات ہے