خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 309 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 309

خطبات طاہر جلد ۱۱ 309 خطبہ جمعہ یکم مئی ۱۹۹۲ء ہیں۔ان کی بدیاں نسبتا سطحی ہیں چنانچہ ہر بڑے ابتلاء کے وقت مسلمانوں کی خوبیاں بہت جلد چمک کر باہر نکلتی ہیں اور حیرت انگیز قربانیاں یہ اللہ اور اس کے رسول کے نام پر کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں صرف مصیبت یہ ہے کہ ان کی لیڈرشپ نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ نے آسمان سے ایک لیڈرشپ نازل فرمائی حضرت امام مہدی اور مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ظہور اسی بات کی علامت تھی کہ تمہارا بدن گندہ نہیں ہے اسی بدن پر نیا سر لگایا جائے گا اور وہ سر ہے جو خدا سے روشنی پائے گا اس لئے سر بدلنے کی ضرورت ہے بدن بدلنے کی ضرورت نہیں سرخود بخود اس بدن کی اصلاح کرلے گا جو اس کے ساتھ وابستہ ہو جائے لیکن جو بدن سر سے وابستہ نہ ہونا چاہے اس کا تو کوئی علاج نہیں۔یہ مثال میں ضمناً اس لئے پیش کر رہا ہوں کہ آپ اصلاح کی حکمتوں کو سمجھیں۔اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ میں مصلح بھیجا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس بدن میں اصلاح کی صلاحیتیں موجود ہیں اور ان سے پوری طرح استفادہ کرنا چاہئے اور اس معاملہ میں صبر کا دامن نہیں چھوڑنا اور اُمید کا دامن نہیں چھوڑنا۔دعا کرتے چلے جائیں اور اصلاح کرتے چلے جائیں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے اس کے نتیجہ میں اگر ایک قوم کی ظاہر اہلاکت مقدر بھی ہو چکی ہو تو وہ ظاہری ہلاکت کی تقدیر تبدیل ہو جائے گی یہی حال دوسری دنیا کا ہے۔یہ مطلب نہیں کہ صرف مسلمانوں کو بچایا جائے گا مراد یہ ہے کہ جو بھی نیکی کی طرف قدم اُٹھانے کی کوشش کرے گا لبیک کہے گا اس کو بچایا جاسکتا ہے پس جس جس ملک میں کوئی احمدی موجود ہے اس کا اپنے ملک سے وفا کا تقاضا یہ ہے کہ وہاں بھی اصلاح کی کوشش شروع کر دے۔کچھ عرصہ قبل میں نے اندرونی اصلاح کے لئے پاکستان میں کچھ اصلاحی کمیٹیاں بنائیں کچھ ہندوستان میں اصلاحی کمیٹیاں بنائیں اور مقصد یہ تھا کہ وہ نوجوان مرد ہوں یا عورتیں جو بُری تہذیب کے اثر سے ضائع ہو رہے ہیں، بداثرات کو قبول کر رہے ہیں۔کوئی Drug کا Addict ہو رہا ہے، کوئی کسی اور برائی میں مبتلا ہورہا ہے۔جب سارا معاشرہ گندہ ہو تو اس معاشرے میں ڈوبے ہوئے کپڑے کا کلیۂ اس اثر سے الگ رہنا اور اس اثر کو ہمیشہ رد کرتے چلے جانا بہت مشکل کام اس کے لئے بڑی جدوجہد کی ضرورت ہے اور اندرونی طور پر ایک نظام ہونا چاہئے جو مقابلہ کرے۔اس غرض سے میں نے اصلاحی کمیٹیاں بنائیں کہ وہ جماعت احمدیہ کے کمزوروں پر نظر رکھ کر پیشتر اس سے کہ وہ اثر کو قبول کر لیں آثار دیکھ کر ان کی اصلاح کی کوشش شروع کر دیں۔اس سے پہلے غلطی۔