خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 306 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 306

خطبات طاہر جلدا 306 خطبہ جمعہ یکم مئی ۱۹۹۲ء لوگ ہیں جو اس بستی کے اہل ہیں اور وہ تھوڑی تعداد میں ہوا کرتے ہیں، قرآن کریم کی کسی آیت پر اگر صحیح غور کرنا ہو تو اس کے سیاق و سباق کے ساتھ اس آیت کو دیکھا جائے تو پھر اصل مضمون ظاہر ہوتا ہے۔یہ تمام آیات بتارہی ہیں کہ بہت تھوڑے ہیں جو حق کو پانے والے ہیں، بہت تھوڑے ہیں جن کو نیکی کی توفیق ملتی ہے اور اکثر ایسے ہیں جو ضائع چلے جاتے ہیں۔پس آٹھٹھا سے ساری بستی کے اہل مراد نہیں ہیں بلکہ وہ جو بستی کے اہل کہلانے کا حق رکھتے ہیں اور انکی تعریف یہ ہے کہ وہ اصلاح میں مصروف رہتے ہیں۔جہاں تک خدا تعالیٰ کی طرف ظلم کے منسوخ ہونے کا تعلق ہے یہ ظلم کے معانی کے اس طرح منافی ہے کہ یہ ناممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف ظلم منسوب ہو کیونکہ ظلم عدل کے فقدان کو کہتے ہیں اور اندھیروں کو کہتے ہیں۔ہر قسم کی تاریکی ظلم کے تابع ہے ہر قسم کی نا انصافی ظلم کے تابع ہے۔تو یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ جونور کا منبع ہو اور جس سے عدل کے میزان نکلیں، جو عدل کے سلیقے دنیا کو سکھائے، جس کی ساری کائنات عدل کی ایک جیتی جاگتی تصویر بنی رہے اس کی طرف ظلم منسوب ہو سکے۔اس لئے جب بھی قوموں کی ہلاکت کے فیصلے کئے جاتے ہیں تو لازماً ان قوموں کی کمزوریوں کے نتیجہ میں ، ان کی خرابیوں کے نتیجہ میں ہلاکت کا فیصلہ کیا جاتا ہے اور جن کو بچایا جاتا ہے ان کو بھی عدل کے پیمانوں سے نہیں بلکہ رحم کے پیمانوں سے بچایا جاتا ہے۔یہ وہ مضمون ہے جس کو خوب اچھی طرح سے سمجھنا چاہئے۔حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے واقعہ میں جبکہ فرشتوں نے آپ کو حضرت لوط کی قوم کی ہلاکت کی خبر دی۔یہ خدا تعالیٰ سے آپ کی گفتگو اور مناجات کا ذکر ہے فرشتوں سے انہوں نے بحث کی اور مراد یہ تھی کہ خدا تعالیٰ تک یہ بات پہنچےاور اللہ تعالیٰ اپنے فیصلے میں تبدیلی فرمائے۔اس کا تفصیلی ذکر بائبل میں ملتا ہے۔بارہا پہلے بیان کیا جا چکا ہے کہ حضرت ابراہیم کی یہ کوشش تھی کہ خدا تعالیٰ چند نیکوں کے بدلے ساری قوم کو معاف فرمادے۔چنانچہ فرشتوں سے لمبی بحث چلی ہے یہاں تک کہ آخر پر آکر حضرت ابراہیم نے یہ کہا کہ اچھا یہ بتاؤ کہ اگر وہاں دس نیک ہوں تب بھی خدا اس قوم کو ہلاک کر دے گا تو فرشتوں نے کہا دس نیک ہوں تب بھی ہلاک نہیں کرے گا۔حضرت ابراہیم نے پھر اپنا ہاتھ اُٹھا لیا کہ ایسی بدنصیب قوم جہاں دس بھی نیک نہ ہوں ان کے لئے اسقدر بحث کرنا اور