خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 301
خطبات طاہر جلدا 301 خطبه جمعه ۲۴ را پریل ۱۹۹۲ء قرآن کریم فرماتا ہے کہ جہاد ظلم کے خلاف ہونا چاہئے نہ کہ ظلم کے ذریعہ تو کیا اُن کی سچائی ہے؟ کیا ان میں حقیقت ہے؟ وہ احمدی جو بعض دفعہ ان لوگوں کے چکر میں آکر کمزوری دکھاتے ہیں میں ان کی عقل پر حیران ہوتا ہوں کہ اتنی کلی کلی تمیز اللہ تعالیٰ نے دکھا دی ہے۔ایسا واضح فرق کر دیا ہے کہ گویا احمدیت کو فرقان عطا فرما دیا ہے اور پھر بھی بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ سچے ہیں کہ وہ سچے ہیں۔قرآن کریم کی ان آیات کی کسوٹی پر اُن کو پر کھ کر دیکھیں تو کسی میں اگر معمولی سی بھی عقل ہو تو اُسے دور کا بھی یہ واہمہ نہیں ہو گا کہ احمدیت کا معاند ملاں سچا ہو سکتا ہے۔اس کی ساری زندگی ظلم کی تعلیم دینے پر وقف ہو چکی ہے اور وہ ظلم جس کو خدا تعالیٰ ظالم قرار دیتا ہے دنیا کی عیش پرستی اور اس کی لذتوں میں کھو جانا اور اس کے نتیجہ میں بنی نوع انسان سے نا انصافی کا سلوک کرنا ، معاشرے میں ہر قسم کی بدی کا پیدا ہو جانا اس ظلم کے خلاف ان کے تمام احساسات یوں ہیں گویا مر چکے ہیں۔میں نے پہلے بھی ایک دفعہ پاکستان کے علماء کونصیحتا یہ بات کہی تھی اگر چہ میں جانتا ہوں کہ وہ نصیحت کو سننے والے نہیں مگر خواہ کوئی سنے یا نہ سنے نصیحت کرنا تو ہمارا فرض ہے اور قرآن کریم کی یہ آیت تقاضا کرتی ہے کہ نصیحت کرو۔میں نے اُن سے کہا کہ کچھ دیر کے لئے تم احمدیت کا پیچھا چھوڑو اور اسلام کو بچانے کی کوشش کرو۔گلی گلی میں، گھر گھر میں اسلام مر رہا ہے اسلامی اقدار مر رہی ہیں حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت طیبہ کو نقصان پہنچ رہا ہے اور اسلامی معاشرے سے یہ سنت غائب ہو رہی ہے۔اس پر تمہارا دل کیوں نہیں روتا ، اس پر تمہاری جان کیوں نہیں نکلتی ، اس پر تمہاری راتوں کی نیند کیوں حرام نہیں ہو جاتی۔تم اُٹھو اور یہ عظیم جہاد کرو۔ملک کی گلی گلی ، شہر شہر، تم قریہ قریہ، گاؤں گاؤں بستی بستی میں اور مسلمانوں کو جو محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہونے کا دعوی کرتے ہیں ان کو بتاؤ اور دکھاؤ کہ وہ حمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ سے کتنا دور جاچکے ہیں اور کتنا دور ہوتے چلے جارہے ہیں۔آج پاکستان کے کسی شہر میں نمونیہ ہزار، پندرہ سو، دو ہزار آدمی منتخب کریں اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کی کسوٹی پر اُن کو پرکھنے کی کوشش کریں وہ پر کھنے کی کوشش ہی گستاخی رسول معلوم ہوگی۔یعنی مثال کے طور پر وہ لوگ جو سندھ میں ڈاکے ڈال رہے ہیں اور اغوا کر رہے ہیں اور جس طرح گلی گلی میں ظلم اور سفاکی سے کام لیا جا رہا ہے، بے حیائی عام ہو رہی ہے، زندگی کا مقصد گندے گانے سننا ہی ہے اس کے سوا کچھ باقی رہا ہی نہیں یا گندی فلمیں