خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 302 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 302

خطبات طاہر جلد ۱۱ 302 خطبه جمعه ۲۴ را پریل ۱۹۹۲ء میسر آجائیں تو عیش وعشرت کی انتہا ہو جاتی ہے۔ہر قسم کی برائیوں کی پیروی ہو رہی ہے، جھوٹ بولا جارہا ہے، رشوت لی جا رہی ہے، دی جارہی ہے، ان لوگوں میں سے نمونے چنیں اور اگر کوئی یہ کہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کی کسوٹی پر پرکھو تو جس کو آنحضور سے محبت ہے اس کو اس پر۔بے انتہا غیرت محسوس ہوگی۔وہ کہے گا ان کو پرکھوں، ان کی حیثیت کیا ہے؟ یہ تو میرے آقا پاک محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی ہے کہ ان کی کسوٹی پر ان لوگوں کو پر کھ کر دیکھا جائے۔یہ تو دکھائی دے رہے ہیں ، نظر آ رہے ہیں کہ کن کے ہیں اور کن کے ہو چکے ہیں۔یہ ملاں کو نظر نہیں آ رہا۔میں نے کہا! خدا کے لئے اگر تمہیں اسلام سے محبت ہے تو یہ کام کیوں نہیں کرتے۔جو چند مسلمان رہ گئے ہیں اُن کو ہی غیر مسلم بنا کر اسلام کو تم نے پاک کرنا ہے جو غیر مسلم یعنی اپنے عمل کے ذریعہ غیر مسلم اسلام میں بھر گئے ہیں ان کی اصلاح کی طرف تمہیں کوئی توجہ نہیں ہے۔لیکن میں آپ کو بتا تا ہوں کہ یہ آپ ہی کا کام ہے۔آپ وہ اُولُوا بَقِيَّةِ ہیں جو معدود چند ہیں اُس اُمت کے مقابل پر جو محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب ہورہی ہیں چند لیکن آپ کو خدا نے یہ عقل دی ہے۔آپ کا یہ کام ہے کہ تمام دنیا کے معاشرے کو بدیوں سے پاک کرنے کے لئے اعلانِ جنگ کریں۔یہ جہاد شروع کریں، ہر جگہ اپنے دفتر کے ماحول میں، اپنے کاروبار، اپنی دکان کے ماحول میں، اپنے تعلیمی ماحول میں، اپنے دوستوں کے تعلقات کے ماحول میں، جہاں بھی آپ جائیں وہاں بُرائیوں کے خلاف جہاد شروع کر دیں اور ہر قوم کی مخصوص بُرائیاں ہیں۔پاکستان کی اپنی بُرائیاں ہیں، ہندوستان کی اپنی ہیں اور انگلستان کی اپنی ہیں، اور ضروری نہیں کہ ہندو پاکستان کے معاشرے چونکہ ملتے ہیں اس لئے ان کی بُرائیاں بھی ایک جیسی ہوں۔ایک لطیفہ ہے لیکن اس میں برائیوں کا فرق کر کے دکھایا گیا ہے۔کہتے ہیں کہ ایک کتا پاکستان کا بارڈر کراس کر کے ہندوستان جا رہا تھا اور ایک کتا ہندوستان کا بارڈر کر اس کر کے پاکستان آرہا تھا۔جو ہندوستان سے آ رہا تھا وہ ہڈیوں کا ڈھانچہ بنا ہوا، غریب بھوکا، فاقوں کا شکار اور جو پاکستان سے جار ہا تھا وہ بڑا مسٹنڈا ، موٹا تازہ ، اچھی خوراک سے پلا ہوا کتنا تھا تو اس پاکستانی کتے نے ہندوستان والے کتے سے جب پوچھا کہ تم بارڈر کراس کر کے پاکستان کیوں آ رہے ہو۔اُس نے کہا بھوکے مر گئے، نظر نہیں آ رہا تمہیں۔میری شکل دیکھو، میری صورت دیکھو۔فاقوں کا شکار ہوں پھر اُس نے کہا کہ میری بات تو قابل فہم ہے لیکن تم بتاؤ کہ تمہیں کیا