خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 300
خطبات طاہر جلد ۱۱ 300 خطبه جمعه ۲۴ را پریل ۱۹۹۲ء سے جانتے ہیں کہ یہ زخم دراصل موت کی طرف لے جانے والے زخم ہیں، ایسے زخم ہیں جن میں۔بہت سے ناسور بن چکے ہیں، ایسے ہیں جو کینسر کی شکل اختیار کر چکے ہیں اور ان سے بچنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ان لوگوں کی اصلاح کے لئے جماعت احمدیہ کو قائم فرمایا گیا ہے۔اگر اُن ہتھیاروں سے لیس ہو جائیں جن ہتھیاروں کا قرآن کریم نے یہاں ذکر فرمایا ہے تو پھر جد وجہد کا آغاز ہوگا اور وہ آغاز کیسے ہو گا؟ فرمایا فَلَوْلَا كَانَ مِنَ الْقُرُونِ مِنْ قَبْلِكُمْ أُولُوا بَقِيَّةٍ يَنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِي الْأَرْضِ اے کاش! تم سے پہلی قوموں کو یہ عقل آ گئی ہوتی کہ وہ بات سمجھ جاتے کہ جب معاشرہ چاروں طرف بیمار ہو چکا ہو اور دن بدن موت کی طرف آگے بڑھ رہا ہو تو ان کو بچانے والے ہلاکت کے گڑھوں سے واپس بلانے والے، ایسے آواز دینے والے ہونے چاہئیں جو بار بار اُن کو متنبہ کریں اور کہیں کہ تم ہلاکت کی طرف جا رہے ہو واپس آؤ۔ان آواز دینے والوں کی صفات کیا ہیں ، وہ پہلے بیان ہو چکیں۔وہ صبر کرنے والے ہیں، وہ احسان کرنے والے ہیں، احسان کے ہر معنے میں وہ احسان کرنے والے ہیں۔وہ لوگ ہیں جو خدا کی عبادت کرتے ہیں اور ان کی عبادتیں زندہ ہو جاتی ہیں۔ان کی راتیں روشن ہو جاتی ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ سے محبت اور پیار کا تعلق باندھ لیتے ہیں اور خدا اُن کا قبلہ بن جاتا ہے۔ایسا قبلہ جو قبلے کی طرف کہیں نہیں بلکہ سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔اگر وہ اُسے دیکھ نہیں سکتے تو وہ انہیں دیکھ رہا ہوتا ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جن کو قرآن کریم نے أولُوا بَقِيَّةِ فرمایا صاحب عقل لوگ یہ ہیں اور یہ لوگ لازماً پھر معاشرے کو نیکی کی تعلیم دیتے ہیں یہ خاموش رہ ہی نہیں سکتے۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ان مراتب کو حاصل کر چکے ہوں اور معاشرے سے بے نیاز اور بے پرواہ ہو جائیں۔لازما وہ خدا کی طرف بلانے والے بنتے ہیں اور خدا کی طرف بلانے کے لئے پہلا قدم بدیوں سے روکنا ہے، برائیوں سے معاشرے کو پاک کرنے کی کوشش کرنا، فرمایا اگر وه الفَسَادِ فِي الْأَرْضِ سے لوگوں کو روکتے تو سوائے ان تھوڑے سے لوگوں کے جن پر اللہ نے احسان فرمایا، قو میں اس بد انجام کو نہ پہنچتیں۔اب یہ وہ ایک ایسی آیت ہے جو ہمارے اور ہمارے دشمن مولویوں میں نمایاں تفریق اور تمیز کرنے والی آیت ہے۔وہ دین کی محبت کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن برائیوں کے خلاف کوئی جہاد نہیں کرتے۔ان کا اگر جہاد ہے تو گھوم پھر کر بالآخر احمدیوں پر ظلم کرنا اُن کے جہاد کا نام ہے اور