خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 299 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 299

خطبات طاہر جلد ۱۱ 299 خطبه جمعه ۲۴ را پریل ۱۹۹۲ء ہے۔پس اس کے نتیجہ میں پھر یہ لوگ رفتہ رفتہ محسن بن جاتے ہیں۔اپنے معاشرے کا حسن دوسروں کو دینے لگ جاتے ہیں وہ لوگ جو ان کے گھروں میں آتے ہیں وہ ان گھروں کی لذت کو دیکھ کر محسوس بھی کرتے ہیں اور ان کے دلوں میں حسرتیں اٹھتی ہیں کہ کاش ہمیں بھی ایسے پاکیزہ گھر نصیب ہوتے۔ان سے وہ دوستیاں کرتے ہیں ان سے تعلق بڑھاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسے نمونے دیکھ کر پھر ان میں سے کئی اسلام اور اسلام کی سچی تشریح یعنی حقیقی اسلام، احمدیت کو قبول کر لیتے ہیں ایک بچی کی میں نے مثال دی تھی اس نے پچھلے رمضان سے ایک دوروز پہلے بیعت کی تھی۔اُسے جب میں نے پوچھا تو اس نے کہا کہ یہ جو احمدی بچیاں ہیں اور ان کے گھر کا ماحول ہے۔یہ مجھے ایسا پُرکشش لگتا تھا، ایسا پیارا لگتا تھا کہ اس کے نتیجہ میں لازماً مجھے اس مذہب کی تحقیق کرنی پڑی اور جب میں نے تحقیق کی تو مجھے دل سے یہ مذہب پیارا لگنے لگا تو محسن کا مطلب صرف یہ نہیں ہے کہ وہ کسی حسن کو اختیار کرلے۔فرمایا صبر کے نتیجہ میں محسن بنو گے اور جب محسن بنو گے تو وہ حسن جو تمہیں صبر نے بخشا ہے وہ تم دوسروں کو بانٹنے لگ جاؤ گے۔موتی بن جاؤ گے تمہارا فیض دنیا کو پہنچے گا اور اس طرح یہ حسن پھیلتا چلا جائے گا۔لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ کا ایک یہ مطلب بھی ہے کہ وہ اس کے پھل اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھیں گے۔اُس کے احسان کی زندگی ضائع نہیں جائے گی بلکہ اس زندگی کو وہ اس دنیا پر غالب دیکھیں گے اور کامیاب دیکھیں گے اور جان لیں گے کہ اس میں ایک طاقت ہے اور اسی طرز زندگی نے بالآخر دنیا پر غالب آتا ہے۔پس ان معنوں میں جماعت کو صبر پر قائم ہونا چاہئے اور جہاں تک مشرقی دنیا کا تعلق ہے پاکستان ہو یا ہندوستان ، جو حالات ہم جانتے ہیں، ہمیں علم ہے کہ نئی نسلیں بہت تیزی کے ساتھ اُن ساری برائیوں کا شکار ہو رہی ہیں جن میں سے اکثر کا آغاز امریکہ میں ہوتا ہے۔وہاں وہ بیماریاں پیدا ہوتی ہیں اور پھر ساری دنیا میں برآمد کی جاتی ہیں اور بہت تیزی کے ساتھ امیر بھی اور غریب بھی نشوں کے مریض، گناہ کے ہر طریق پر منہ مارنے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے والے سچ اور جھوٹ کی تمیز اٹھ چکی ہے ، حلال اور حرام کمائی کی تمیز اٹھ چکی ہے، انصاف اور ظلم کے درمیان کوئی تفریق نہیں رہی اور ہر پہلو سے ہمارا معاشرہ اتنا داغدار اور گندہ ہو چکا ہے اور اس قدر زخمی ہو چکا ہے کہ وہ خواہ ان دکھوں کو محسوس کریں نہ کریں دیکھنے والے