خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 298
خطبات طاہر جلد ۱۱ 298 خطبه جمعه ۲۴ راپریل ۱۹۹۲ء اسی طرح آجکل کی مغربی دنیا میں بہت سی جگہ بچوں سے یہ سلوک ہوتا ہے۔جرمنی میں خصوصیت سے بعض جرمن احمدیوں نے میرے سامنے بعض واقعات بیان کئے۔مجھے تو یقین نہیں آتا تھا کہ ایسا ہو سکتا ہے لیکن انہوں نے کہا کہ یہ تو روز مرہ کی بات ہے۔بیٹا بڑا ہوا تو اس کے بعد وہ اپنے گھر میں اپنے رہنے کا بل ادا کرنا شروع کر دیتا ہے اور اس طرح اگر باپ بعد میں آ کر اس کے پاس ٹھہرے تو باپ اس کو اپنا بل دے گا۔وہ جو ایک خاندان کی اعلیٰ قدریں ہیں اور ایک دوسرے کے لئے ایثار اور قربانی کی اور ایک دوسرے کی ذمہ داریوں کی وہ ساری قدریں قصہ پارینہ بن چکی ہیں اور ماضی کی بات ہو چکی ہے اور نتیجہ یہ ہے کہ پھر ایک دوسرے کے ساتھ سختی ہے ایک دوسرے کے ساتھ احسان کا تو کیا سوال عدل بھی باقی نہیں رہتا۔کئی مستثنیٰ بھی ہیں۔کئی ایسے خاندان بھی جانتا ہوں، انگلستان میں بھی اور جرمنی میں بھی اور دوسرے ممالک میں بھی جن میں بہت قرب ہے اور ایک دوسرے سے بہت پیار کرنے اور والے ہیں۔ساری قوم ایک سی نہیں لیکن رجحان وہی ہے جو میں بتارہا ہوں اور یہ بڑھتا ہوا رجحان ہے اور ایک ایسا خطرناک رجحان ہے جب سے یہ قائم ہوا ہے آگے ہی بڑھا ہے پیچھے نہیں ہٹا۔پس اس پہلو سے جماعت احمدیہ کے وہ خاندان جو مغرب میں زندگی بسر کرتے ہیں ان کے لئے بہت بڑی نصیحت ہے۔شروع میں ان کو صبر کرنا پڑے گا اپنے بچوں کو بھی ، اپنی بیویوں کو بھی ، اپنی بچیوں کو بھی سمجھانا ہو گا کہ اس معاشرے میں کچھ نہیں ہے صرف دکھ ہی دکھ ہیں ، وقتی عارضی لذتیں ہیں ان سے کنارہ کشی کرو اور اس میں ہی صبر ہے اور اس کے لئے لازماً کچھ عرصہ صبر سے کام لینا پڑتا ہے۔اس کے نتیجہ میں پھر گھر کا جو محبت اور پیار کا پاکیزہ ماحول پیدا ہوتا ہے وہ حسن ہے جو صبر کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے اور جن گھروں میں یہ حسن ہو ان کی باہر کی طرف نظر ہی نہیں رہتی۔وہ گھر خود کشش کا موجب بن جاتے ہیں اور ہر وہ شخص جو ان گھروں سے وابستہ ہوتا ہے باہر سے گھبرا کر جلد از جلد گھر لوٹنے کی کوشش کرتا ہے کیونکہ اس کو اپنے باپ سے، اپنی ماں سے، اپنی بہنوں سے، اپنے بھائیوں سے، اپنے عزیزوں سے جو پیار ملتا ہے اور جو اپنائیت ہوتی ہے، جو یقین ہے کہ یہ ہمارے ہیں اور ہم ان کے ہیں اس کے نتیجہ میں ایک ایسا خوبصورت سکون نصیب ہوتا ہے کہ اس کی مثال باہر کی دنیا میں کم پائی جاتی ہے اور وہ لوگ جو دنیا کی لذتوں کی پیروی کرنے والے ہیں ان کو پتا ہی نہیں کہ یہ لذت کیا چیز۔