خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 25
خطبات طاہر جلدا 25 25 خطبہ جمعہ ۷ ارجنوری ۱۹۹۲ء قادیان کی وہ آبادی جو مرکزی حصہ میں آباد ہے اس کے پاس مکان بھی بہت تھوڑے ہیں اور باہر سے آنے والے مہمانوں کے لئے مختلف ممالک سے آنے والے مہمانوں کے لئے رہائش کی سہولتیں مہیا کرنا ان کے بس کی بات نہیں تھی۔اس ضمن میں انگلستان ہی کے ایک اور مخلص خادم چوہدری عبدالرشید صاحب آرکیٹیکٹ اور ان کے ساتھیوں کا ذکر بھی ضروری ہے۔ان کو بھی دعا میں یادرکھنا چاہئے کیونکہ تعمیری کاموں میں انہوں نے بہت ہی محنت سے اور شوق اور ولولے سے حصہ لیا ہے۔بہت قیمتی وقت خرچ کر کے میری ہدایت پر قادیان بھی بار بار جاتے رہے اور تعمیری منصوبہ بندی میں ان کو اور ان کے ساتھ ایسوسی ایشن کے ساتھیوں کو خدا کے فضل سے خاص خدمت کی توفیق ملی ہے۔یہ کام ابھی جاری ہیں اور قادیان میں جو تعمیری منصوبے ہیں یہ انشاء اللہ آئندہ کئی سالوں تک پھیلے رہیں گے اور کام بڑھتا رہے گا اور میں امید رکھتا ہوں کہ جس اخلاص کے ساتھ پہلے تمام دنیا کے احمدیوں نے جن کو انجینئر نگ سے تعلق ہے خدمت میں حصہ لیا ہے آئندہ بھی انشاء اللہ، اللہ تعالیٰ ان کو تو فیق عطا فرماتا رہے گا۔قادیان کے ناظر صاحب اعلیٰ صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب اور ان کے ساتھی ناظران اور نائب ناظران نے بھی بہت لمبا عرصہ ان انتظامات کو مکمل کرنے میں بہت محنت سے کام کیا ہے اور قادیان کے درویشوں کا علاقے میں جو نیک اثر ہے اس کے نتیجہ میں علاقے سے تعاون بھی بہت ملا ہے اور وہ سب تعاون کرنے والے بھی ہمارے شکریہ کے مستحق ہیں۔ہندوستان کی حکومت نے بھی ہر طرح سے تعاون کیا اور پنجاب کی حکومت نے بھی بہت ہی غیر معمولی تعاون کیا ہے۔یہاں تک کہ تمام عرصہ جب تک کہ میرا وہاں قیام رہا ہے خواہ مختصر عرصے کے لئے تھوڑی دیر کے لئے کہیں جانا ہوتا تھا تب بھی وہاں پولیس کے تھانے کے انچارج اور ان کے ساتھی بہت ہی مستعدی کے ساتھ آگے پیچھے ہر طرح نگرانی کرتے تھے اور باہر نکلنے کی صورت میں جب قادیان سے باہر چند گھنٹے کے لئے جانا پڑا تو اس وقت بھی کوئی چالیس پچاس افراد پرمشتمل پولیس کی نفری تھی۔جس میں جگہ جگہ کے ڈی ایس پی بھی شامل ہوتے رہے اور انسپکٹر پولیس وغیرہ بہت ہی مستعدی کے ساتھ انہوں نے اس طرح خدمت کا حق ادا کیا ہے جیسے کوئی احمدی خود لگن کے ساتھ شوق سے حصہ لے رہا ہو تو یہ ساری چیزیں ایسی ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کی تقدیر صاف کارفرما دکھائی دیتی تھی۔