خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 24
خطبات طاہر جلد ۱۱ 24 24 خطبہ جمعہ ۷ ارجنوری ۱۹۹۲ء میں شامل ہوئے۔قافلہ در قافلہ خدمت کرنے والوں کا ہجوم بڑھتا رہا لیکن آغاز میں کچھ ایسے افراد کو خدمت کا موقع ملا ہے جو ایک لمبے عرصہ سے مسلسل بڑی محنت اور توجہ اور حکمت کے ساتھ اپنے اپنے فرائض سر انجام دیتے رہے۔ان میں سب سے پہلے تو United Kingdom کے امیر آفتاب احمد خان صاحب کا نام قابل ذکر ہے۔ان کو بھی احباب اپنی دعاؤں میں یادرکھیں۔بیرونی دنیا سے جس حد تک ہندوستان پر اثرات مترتب ہو سکتے تھے ان کو منظم کرنے میں اور ان کو بروئے کار لانے میں آفتاب احمد خان صاحب نے بہت ہی غیر معمولی خدمت کی ہے۔اس کے علاوہ مجھے یہاں مرکزی مددگار کی ضرورت تھی جو صاحب تجر بہ بھی ہواور دیگر کاموں سے الگ رہ کر مسلسل ہندوستان اور قادیان سے متعلق مسائل میں میری مدد کر سکے اور مجھ سے ہدایات لے اور اُن پر عمل درآمد کروائے۔اس سلسلہ میں بھی آفتاب احمد خان صاحب کو غیر معمولی مؤثر قابلِ تعریف خدمت کا موقع ملا اور میرا بہت سا بوجھ بٹ گیا اور مسائل آسان ہوئے۔عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ جب کسی کو بات سمجھائی جائے تو تجربہ کار آدمی بھی اس میں کہیں نہ کہیں سمجھنے میں غلطی کر جاتے ہیں اور بار بار پوچھنے اور نگرانی کے باوجود سقم رہ جاتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ نے United Kingdom کے امیر صاحب کو یہ ملکہ عطا فرمایا ہے کہ وہ ایک ہی دفعہ بات سمجھ کر اس کے تمام پہلوؤں کو خوب اچھی طرح ذہن نشین کر لیتے ہیں اور پھر ان کو عملدرآمد کے سلسلہ میں یاد دہانی کی ضرورت پیش نہیں آتی۔اگر ان کاموں میں مجھے بار بار الجھنا پڑتا تو کام اتنا زیادہ تھا کہ میرے لئے مشکل پیش آسکتی تھی مگر خدا نے بہت فضل فرمایا اور ایک اچھا مددگار اور نصیر مجھے عطا کر دیا۔پاکستان سے چوہدری حمید اللہ صاحب اور میاں غلام احمد صاحب نے بڑے لمبے عرصہ تک بہت محنت کی ہے اور قادیان جا کر وہاں کے مسائل کو سمجھا اور میری ہدایات کے مطابق ہر قسم کی تیاری میں بہت ہی عمدہ خدمات سرانجام دی ہیں ورنہ قادیان کی احمدی آبادی اتنی چھوٹی ہے کہ ان کے بس میں نہیں تھا کہ اتنے بڑے انتظام کو سنبھال سکتے۔تمام مردوزن، بچے ملا کر اس وقت کل ۱۸۰۰ کی تعداد میں قادیان میں درویش اور بعد میں آنے والے بس رہے ہیں اور اتنا بڑا جلسہ جس میں تقریباً بیالیس ہزار مہمان شرکت کر رہے تھے اسے سنبھالنا ان کے بس کی بات نہیں تھی۔خصوصاً اس لئے بھی