خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 289
خطبات طاہر جلدا 289 خطبه جمعه ۲۴ را پریل ۱۹۹۲ء لفظ ہے اور وہ ہے۔النُّلْفَةُ زلف اور اس آیت کریمہ میں جو لفظ زُ لَفاً استعمال ہوا ہے۔وہ اسی زُلْفَ سے لیا گیا ہے۔اس سے آگے پھر زُلفاً بنتا ہے۔جو قابل ذکر بات تھی وہ یہ تھی کہ میں اس مضمون کے متعلق یہ رجحان رکھتا تھا کہ اس آیت میں لفظ زُلفاً صرف رات کے ٹکڑے کے معنوں میں استعمال نہیں ہوا۔بلکہ قرب الہی کے طور پر بھی استعمال ہوا ہے کیونکہ لفظ زُلفی جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اس میں قرب کے معنی ہیں، رات کے معنی نہیں ہیں۔( زلف ی، کھڑی الف سے جو زلفی لفظ ہے اس میں قرب کے معنی ہیں اور رات کے معنی نہیں ہیں ) اسی طرح اور مصادر میں بھی قرب کے معنی ہیں اور رات کے معنی نہیں مثلاً یہیں جو اصل مصدر زُلفا وَ زَلَفًا و زَلوُفًا ہے اس میں قربت اور کسی سے دوستی چاہنا اس کے قریب ہو جانے کے معنی تو ہیں مگر رات کے معنی نہیں لیکن اس سے جو مشتق ہوا ہے زُلْفَةً اس میں خدا تعالیٰ کا یہ عجیب تصرف ہے کہ رات کے معنی بھی ہیں اور قربت کے معنی بھی ہیں اور یہ دونوں معنی یہاں اکٹھے ہو گئے ہیں۔پس قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت کا یہ کرشمہ ہے کہ ان تمام لفظوں میں سے وہ لفظ اللہ تعالیٰ نے پسند فرمایا جس میں محض رات کے ٹکڑے کے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے قریب ہونے کے معنی بھی پائے جاتے ہیں اور یہ مضمون ویسے ہی ہے جیسے فَتَهَجَّدُ بِه نَافِلَةً لَكَ عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا ( بنی اسرائیل : ۸۰) میں بیان ہوا ہے کہ رات کو اٹھ کر اگر تم نوافل پڑھو گے اور تہجد پڑھو گے تو یہ ایک بہت ہی اعلیٰ درجہ کی نیکی ہے جس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے تمہیں پیار عطا ہوگا اور مقام محمود عطا ہوگا۔پس اس آیت کے اب یہ معنی بنیں گے۔وَاَقِمِ الصَّلوةَ طَرَفِي النَّهَارِ نماز کو قائم کرو، عبادت کیا کرو، دن کے دونوں کناروں کے وقت یعنی صبح بھی سورج نکلنے کے بعد دن کے پہلے حصہ میں بھی اور سورج غروب ہونے سے پہلے دن کے آخری حصے میں بھی وَ زُلَفًا مِنَ الَّيْلِ اور رات کے کسی حصہ میں بھی لیکن زُلَفًا مِنَ الَّيْلِ میں کسی حصے سے زیادہ معنے پائے جاتے ہیں کیونکہ زُلف کا مطلب رات کا وہ حصہ بھی ہے جو دن کے ساتھ لگا ہوا ہو اور دونوں طرف زُلفا کا لفظ اطلاق پاتا ہے۔تو مراد یہ ہے کہ دن کے دونوں کناروں پر بھی ، ابھی دن ہو تو نماز پڑھا کرو، عبادت کیا کرو اور رات کے دونوں کناروں پر بھی یعنی ان کناروں پر جو دن سے ملتے ہیں عبادت کیا کرو اور وَزُلَفًا کا الگ آزاد معنی یہ ہو گا اور رات کے کسی حصہ میں اٹھ کر الگ عبادت بھی کیا کرو۔پانچوں