خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 285 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 285

خطبات طاہر جلدا 285 خطبہ جمعہ ۱۷ را پریل ۱۹۹۲ء کے ساتھ آزادی سے پھریں تو ہمیں عزت کا مقام ملے گا۔یہ قوم پھر ہمیں اپنے جیسا درجہ دے گی۔فرمایا یہ سب دھوکہ ہے۔ذِکری کا یہ بھی معنی ہے۔قرآن کریم ذکری کی پہلے مثال بیان فرما چکا ہے۔کہتا ہے کہ بیوقوف نہ بننا۔انسانی نفسیات کے خلاف باتیں ہیں۔ناممکن ہے کہ بدوں کے رنگ اختیار کر کے تمہیں عزت نصیب ہو جائے۔عزت حاصل کرنے کے لئے خدا کے رنگ اختیار کرنے ہوں گے۔اس جیسے اخلاق اپنانے ہوں گے۔عزت حاصل کرنے کے لئے ایسی حسنات کو اختیار کرنا ہو گا جن کے اندر یہ غالب طاقت موجود ہے کہ وہ بدیوں کو زائل اور باطل کرتی چلی جاتی ہیں اور نیکی وہی ہے جو غالب ہو کر چکے جیسے کہتے ہیں کہ جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے۔حقیقت میں جب ایک احمدی سچی نیکی اختیار کرتا ہے تو اس کا معاشرہ اس سے متاثر ہورہا ہوتا ہے۔اس سے مرعوب ہو رہا ہوتا ہے۔ظاہری طور پر چند دن باتیں ہوتی ہیں کہ جی تم پاگل لوگ کس زمانے کے انسان ہو۔آج کے ساتھ تمہارا کوئی تعلق نہیں رہا لیکن نیکی دل میں گہرا اثر کرنے والی چیز ہے اور کچھ عرصے کے بعد جو لوگ ایک نیک کو طعن و تشنیع کا نشانہ بناتے ہیں وہ اس سے مرعوب ہوتے چلے جاتے ہیں، اس کی عزت کرتے چلے جاتے ہیں، اس سے نیکی کے رنگ سیکھنے لگتے ہیں اور نیک انسان اکیلا نہیں رہتا۔وہ ایک جاگ کے قطرے کی طرح ہوتا ہے جسے خواہ سمندر میں بھی پھینک دیا جائے۔اس کے مقدر میں بڑھنا ہی بڑھنا ہے۔حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زمانے میں یہ تاریخ یعنی نیکیوں کی تاریخ اسی طرح دہرائی گئی تھی لیکن بہت بڑی شان کے ساتھ جو پہلے برتنوں میں دہرائی جاتی تھی، جو پہلے تالابوں میں دہرائی جاتی تھی وہ تمام عالم کے سمندروں میں دہرائی گئی اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو ساری دنیا کی اصلاح کے لئے قائم فرمایا گیا۔آپ نے وہی کام کرنا ہے تو اسی طریق پر کرنا ہو گا جس طریق پر خدا نے آپ کو سمجھایا اور آپ نے کر کے دکھایا۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین