خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 271
خطبات طاہر جلد ۱۱ 271 خطبہ جمعہ ۷ ارا پریل ۱۹۹۲ء اتنی پیدا نہیں ہوتی کہ تمام عالم میں پھیل کر تمام عالم کے مسائل کا حل تلاش کرنے میں دنیا کی مددکریں۔تو اس وقت تک ہماری آواز میں صدا بصحرا کی حیثیت رکھتی رہیں گی اور اس سے زیادہ ان کا فائدہ نہیں پہنچے گا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس جدو جہد کو چھوڑ دیا جائے اور تعداد بڑھنے کا انتظار کیا جائے۔قرآن کریم نے انبیاء کی سنت اسی طرح محفوظ فرمائی ہے اور بار بار یہ تاریخ دہرائی ہے کہ انبیاء نے نیکی پھیلانے اور بدی کو روکنے کے لئے تعداد کا انتظار نہیں کیا بلکہ جب وہ اکیلے تھے اس وقت بھی دنیا کو یہی تعلیم دیتے رہے اور جب وہ زیادہ ہوئے تو اس وقت بھی یہی تعلیم دیتے رہے حقیقت میں دعوت الی اللہ کا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے ایک گہرا تعلق ہے۔دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لازم ملزوم ہیں ایک کو طاقت ملے تو دوسرے کو ضرور طاقت ملتی ہے لیکن ایک دوسرے کا انتظار نہیں کرتا۔جس حد تک ممکن ہو یہ دونوں بنیادی فرائض جو ہم پر عائد فرمائے گئے ہیں ان کی ادائیگی میں جماعت کو مستعدی دکھانی چاہئے۔جن آیات کی میں نے تلاوت کی ہے یہ سورہ ھود کا آخری رکوع ہے۔سورہ ھود کے متعلق حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر بعض اور سورتوں کے متعلق بھی لیکن ھود کی خصوصیت سے آپ نے بیان فرمایا کہ مجھے تو اس سورۃ نے بوڑھا کر دیا ہے۔میرے بال اس سورۃ نے سفید کر دیئے ہیں۔اس سورۃ میں وہ کیا بات تھی جس کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے آپ نے بتایا کہ میں نے اتنا دکھ محسوس کیا ہے کہ گویا میرے بال اس سورۃ میں بیان فرمودہ قوموں کے دردناک حالات کی وجہ سے سفید ہوئے۔جہاں تک تفصیلات کا تعلق ہے سورہ ھود پڑھنے سے ہر احمدی کو ان بدنصیب قوموں کے حالات معلوم ہو سکتے ہیں جو باوجود اس کے کہ انبیاء اور ان کی جماعتوں نے ان کو سنبھالنے کی کوشش کی لیکن وہ گویا رستیاں تڑوا کر اپنے ہلاکت کے گڑھے کی طرف سرپٹ دوڑنے لگیں اور بالآخر ہلاک ہوگئیں۔وہ تاریخ آپ کو قرآن کریم میں مختلف جگہ مذکور دکھائی دے گی مگر سورہ ھود میں بہت تیز لہروں کے ساتھ اور بار باراٹھنے والی لہروں کے ساتھ اس تاریخ کا اعادہ فرمایا گیا ہے اور ایک ہی بیٹھک میں جب آپ سورہ ھود پوری پڑھ صلى الله جاتے ہیں تو پھر آپ کو اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کیا غم تھا جس نے حضرت اقدس محمد ے کے مقدس بالوں کو سفید کر دیا۔