خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 270 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 270

خطبات طاہر جلد ۱۱ 270 خطبہ جمعہ ۷ ارا پریل ۱۹۹۲ء إِنَّا عَمِلُونَ وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنتَظِرُونَ وَلِلَّهِ غَيْبُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ فَاعْبُدُهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ (هود:۱۱۳ تا ۱۳۴) پھر فرمایا:۔آج زمانہ بڑی تیزی کے ساتھ اخلاقی انحطاط کی طرف بڑھ رہا ہے اور وہ روکیں جو فساد کے بڑھنے کی راہ میں حائل تھیں وہ دنیاوی اغراض کی روکیں تھیں، اعلیٰ اقدار کی روکیں نہیں تھیں اور جب وہ روکیں اُٹھیں تو تیزی کے ساتھ دنیا خود غرضی سے اپنے مطالب کے حصول میں کوشاں ہے اور خود غرضی کی جو یہ نئی لہر اٹھی ہے اس نے تمام عالم کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔یہ وہی لہر ہے جو پہلے ایک دبی ہوئی قوت کے طور پر موجود تھی لیکن بعض بیرونی عوامل کے نتیجہ میں پوری طرح کھل کھیلنے کی طاقت نہیں پاتی تھی۔اب وہ بیرونی عوامل اُٹھا دیئے گئے ہیں اور ہر قوم ایک دوسری قوم کے خلاف موج کرنے کے لئے تیار بیٹھی ہے۔یہ وہ صورتحال ہے جو انتہائی خطر ناک ہے اور تمام دنیا کے امن کو بر باد کرنے کے لئے گویا سارے عالم میں تیاری ہو رہی ہے۔یہ وہ وقت ہے جبکہ مغرب کو متہم کرنا اور مشرق کو مستثنیٰ کرنا ایسا ہی غلط ہو گا جیسے مشرق کو متہم کرنا اور مغرب کو مستی کرنا۔میں نے قوموں کے حالات کا بغور مطالعہ کیا ہے۔یہ نہیں کہا جا سکتا کہ مغرب ظالم ہے اور مشرق نہیں یا مشرق ظالم ہے اور مغرب نہیں ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (الروم :۴۲) کا ایک نیا نقشہ دنیا میں ابھر رہا ہے اور اس کی سب سے بڑی تکلیف اور اس تکلیف کو دور کرنے کی سب سے بڑی ذمہ داری جماعت احمدیہ پر عائد ہوتی ہے کیونکہ ہم یہ کامل یقین رکھتے ہیں کہ زمانے کی ڈوبتی ہوئی کشتی کو بچانے کے لئے ہمیں کھڑا کیا گیا ہے۔یا ڈوبتے ہوئے زمانے کو بچانے کے لئے ہمیں وہ کشتی عطا فرمائی گئی ہے جس نے نوح کی کشتی کا سا کام کرنا ہے۔یہ کشتی جتنی وسیع ہوگی اتنے ہی زیادہ بنی نوع انسان کو بچانے کی اہلیت رکھے گی۔اس پہلو سے میں دعوت الی اللہ پر خصوصیت سے زور دیتا رہا ہوں۔ہم کیسے ہی مخلص کیوں نہ ہوں۔ہم کتنے ہی بنی نوع انسان کی ہمدردی چاہنے والے کیوں نہ ہوں جب تک ہم میں انفرادی طاقت