خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 266 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 266

خطبات طاہر جلد ۱۱ 266 خطبہ جمعہ اراپریل ۱۹۹۲ء سامنے رکھا ہے اس کا اس سے تعلق ہے تبھی موت کے وقت إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رُجِعُوْنَ پڑھا جاتا ہے۔خدا کا ہونا ایک غالب حقیقت ہے اور ایک دائگی حقیقت ہے۔اس کی ملکیت ہمیشہ باقی رہنے والی چیز ہے۔باقی سب چیزیں عارضی ہیں اور موت کا ملکیت سے تعلق ہے کیونکہ جس کی اصل ملکیت ہے وہ بالآخر نمایاں ہو کر دکھائی دے گی اور بیچ کے سب دھو کے اُڑ جائیں گے جس میں انسان اپنے آپ کو خواہ عارضی طور پر خواہ مستقل طور پر مالک سمجھتارہا۔سب ملکیتیں فنا ہو جائیں گی۔کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔قرآن کریم نے مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ کی یہی تعریف فرمائی ہے کہ وَمَا أَدْرُ بكَ مَا يَوْمُ الدِّينِ ﴿ ثُمَّ مَا أَدْرِيكَ مَا يَوْمُ الدِّينِ يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِنَفْسٍ شَيْئًا وَالْأَمْرُ يَوْمَيذِ لِلهِ (الانفطار: ۲۰۱۸) کہ تمہیں کیا پتا کہ يَوْمِ الدِّینِ کیا چیز ہے۔جب ہم مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ کہتے ہیں تو خدا فرما تا ہے کہ کبھی سوچا بھی ہے کہ يَوْمِ الدِّینِ ہوتا کیا ہے۔کیسے تمہیں سمجھائیں که يَوْمِ الدِّينِ کیا ہے ؟ يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِنَفْسٍ شَيْئًا۔کوئی ذات نہ اپنے لئے ، نہ کسی اور کے لئے کسی چیز کی مالک ہوگی کوئی جان نہ کسی جان کی مالک ہوگی ، نہ کسی اور جان کی امین ہوگی نہ اپنی مالک ہو گی۔نہ اپنے لئے کوئی امانت اپنے پاس رکھتی ہوگی۔سب کچھ خدا کی طرف لوٹ جائے گا۔صرف ایک مالک رہے گا اور وہ خدا کی ذات ہے اس کے سوا کوئی مالک نہیں رہے گا۔جب ملکیتیں ساری فنا ہو جانے والی ہیں تو اسی کا نام موت ہے یعنی غیر اللہ کی ملکیت کی ذات میں موت شامل ہے کیونکہ وہ ملکیت دائمی ہو نہیں سکتی اس لئے کسی کو ہمیشہ کی زندگی نہیں مل سکتی۔خدا کی طرف لوٹنے کا مطلب اس کی ملکیت کا ادراک کروانا ہے یہ بتانا ہے کہ حقیقی مالک وہی ہے اس لئے تم اس کی طرف لوٹو گے اور اگر آپ وہ ملکیت چوری کر چکے ہیں۔مالک نہ ہوتے ہوئے اس کا غلط استعمال کر بیٹھے ہوں اور لوگوں کے مالک بن چکے ہوں اور ان پر ناجائز قبضے کئے ہوں۔ان کی عزتیں ان کی جانیں ان کے اموال ان کی خوشیاں آپ کے ہاتھ میں محفوظ نہ ہوں اور آپ نے ان پر ناجائز تصرف کر لئے ہوں تو پھر جب مالک حقیقی کے سامنے پیش ہوں گے تو یقیناً