خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 258
خطبات طاہر جلدا 258 خطبه جمعه ۰ اراپریل ۱۹۹۲ء بچے ہو گئے اور پھر اس کے بعد ڈنڈا اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ تو جاہلانہ بات ہے اگر وہ ظالم ہی تھی تو اتنا لمبا عرصہ تم کیا کرتے رہے ہو؟ قرآن کریم نے بڑے لطیف انداز میں یوں بیان فرمایا ہے کہ جب تم بیویوں کو علیحدہ کرتے ہو تو حسن سلوک سے کیا کرو۔یاد کرو کہ تم ان سے استراحت کرتے رہے ہو ، بے تکلف لطف اُٹھاتے رہے ہو ان باتوں کا کچھ تو پاس کرو، کچھ تو حیا کرو۔الفاظ یہ نہیں مگر مضمون بعینہ یہی بیان ہوا ہے تو مردوں کو آنحضرت ﷺ کا اسوہ اختیار کرنا چاہیئے اور اس اسوہ میں یہ بات داخل ہے کہ اصول کی قربانی آپ نے کبھی نہیں کی بے حد محبت اور بے حد عفو کا سلوک کرنے کے باوجود آپ نے کبھی ایک دفعہ بھی کسی اصول کی قربانی نہیں دی چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ کے متعلق یہ روایت ملتی ہے کہ ایک موقع پر کسی بیوی کی طرف سے کوئی تحفہ آیا جس سے ان کو تکلیف ہوئی اور آپ نے وہ برتن توڑ دیا آنحضرت یہ خود اٹھے اور برتن اپنے ہاتھ سے جوڑا اور پھر نصیحت فرمائی کہ اس کے بدلے صحیح اچھا برتن بھجوا ؤ اور آپ کی ناراضگی آپ کے چہرے پر ایسی واضح لکھی گئی تھی کہ باوجود اس کے کہ کوئی سخت کلامی نہیں کی لیکن اس کا دکھ ہمیشہ کے لئے حضرت عائشہؓ کے دل پر نقش ہو گیا۔(نسائی کتاب عشرۃ النسائی حدیث نمبر: ۳۸۹۳) ایک موقع پر آنحضرت ﷺ کی موجودگی میں کسی زوجہ محترمہ کا ذکر آیا تو حضرت عائشہ صدیقہ نے چھوٹی انگلی اٹھا کر فرمایا۔وہ یعنی وہ چھوٹے سے قد والی چھنگلی کے برابر۔غالبا وہ حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بات تھی۔(ابوداؤ دکتاب الادب حدیث نمبر :۴۲۳۲) آنحضرت ﷺ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ عائشہ تم نے ایک ایسی چھوٹی سی بات کی ہے کہ اسے اگر سمندر میں پھینکا جائے تو سارا سمندر متغیر ہو جائے۔کتنا عظیم الشان کلام ہے۔کیسی پاکیزہ نصیحت ہے اور کتنا سخت جواب اس نرمی کے اندر ہے لیکن بہت ہی ملائمت اور بہت ہی زیادہ لطف کے ساتھ آپ نے بات کو پیش فرمایا لیکن اگر حساس آدمی ہو تو وہ ہمیشہ اس بات کی تکلیف محسوس کرتا رہے گا کہ مجھ سے کیوں ایسی غلطی سرزدہ ہوئی جس کے نتیجہ میں آنحضرت ﷺ کو مجھے اس طرح نصیحت فرمانی پڑی اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے وصال کے بعد وہ خود مدتوں یہ بات اپنے متعلق بیان فرماتی رہیں کہ مجھے بھی وہ دن دیکھنا پڑا جب میں نے ایسی بات کر دی تھی تو آنحضرت ﷺ نے جواباً فرمایا کہ دیکھو عائشہ اتم نے چھوٹی سی بات کی