خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 257 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 257

خطبات طاہر جلد ۱۱ 257 خطبه جمعه ۰ اراپریل ۱۹۹۲ء اور آپ نے عورتوں کے ساتھ سلوک کے جو پاک نمونے ہمارے لئے ہمیشہ کے لئے چھوڑے ہیں جو ہمیشہ زندہ جاوید رہیں گے ان سے استفادہ کریں۔آنحضرت ﷺ کا طریق یہ تھا کہ بہت سی باتوں میں اپنی بیگمات کی زیادتیاں برداشت فرماتے تھے اور ایسے مواقع بھی آئے کہ قرآن کریم میں ان کا ذکر ہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہدایت فرمائی کہ اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم دنیا کی زندگیاں چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں دنیا کے مال دیتا ہوں اور رخصت کر دیتا ہوں حسن سلوک کے ساتھ علیحدہ کروں گا کوئی سختی نہیں ہوگی لیکن میرے ساتھ نہیں رہ سکتیں۔یہ آخری اور بہت ہی تکلیف دہ فیصلہ تھا۔جس کے پس منظر میں کچھ باتیں ہوں گی۔قرآن کریم نے ان کی تفصیل بیان نہیں فرمائی اس لئے ہمارا بھی کام نہیں ہے کہ ہم ان تفاصیل کو تلاش کریں ویسے بھی ادب کا مقام ہے کہ ان باتوں میں ہر گز کھوج نہ لگائیں لیکن بالعموم یہ یقین کریں کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے یقینا کچھ دکھ محسوس فرمایا ہوگا، کوئی تکلیف پہنچی ہوگی اس دکھ کے ازالے کے لئے اس تکلیف کو رفع فرمانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ اعلان عام کرنے کی ہدایت فرمائی اور آپ کو بری الذمہ فرما دیا۔اس کے بعد یقینا آپ کی ازواج مطہرات میں کوئی غیر معمولی پاک تبدیلی پیدا ہوئی ہوگی کیونکہ اس کے بعد پھر کوئی تنبیہہ نظر نہیں آتی اور پھر کوئی ایسا واقعہ دکھائی نہیں دیتا کہ حضرت اقدس محمد مصطفی سے کسی بیگم سے شکوہ کے نتیجہ میں اس کو علیحدہ فرمایا ہو۔یہ تو بالمعموم حضور اکرم ﷺ کا اسوہ ہے جس کا میں ذکر کر رہا ہوں کہ آپ کو بھی کچھ نہ کچھ تکلیفیں ضرور پہنچیں لیکن آپ نے وسیع حوصلگی کا اظہار فرمایا اور بہت بڑے کھلے دل کے ساتھ ان چیزوں سے صرف نظر فرماتے رہے یہاں تک اللہ تعالیٰ نے آپ کو خود نصیحت فرمائی کہ اس صورت حال میں آخری علاج علیحدگی ہے۔احباب جماعت کو اس مضمون کو بھی خوب ذہن نشین رکھنا چاہئے بہت سی ایسی باتیں ہیں جن میں اصلاح کی کوشش نرمی سے ہی جاری رہنی چاہئے اور جہاں تک نصیحت کا تعلق ہے نصیحت سے کام لینا چاہئے لیکن اگر پانی سر سے گزرتا دیکھیں تو اسی قرآنی ہدایت کے پیش نظر اپنی بیویوں کے سامنے بات کھول دینی چاہئے کہ اس صورت حال میں ہم اکٹھے نہیں رہ سکتے اور یہ بات جتنی جلدی ہوتو اتنا ہی بہتر ہے۔بعض لوگ تقریباً ساری عمر بیویوں کے ساتھ گزار دیتے ہیں۔پانچ پانچ، چھ چھ