خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 256 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 256

خطبات طاہر جلدا 256 خطبہ جمعہ ار ا پریل ۱۹۹۲ء مرد عموم طاقت ور ہوتا ہے اس لئے اس پر جسمانی دباؤ اور جبر بھی نہیں ہوسکتا۔مرد کو اختیار ہے جب چاہے گھر چھوڑ کر باہر نکل جائے اور ناراضگی کا اظہار کرنا چاہے تو دو دو تین تین راتیں پھر نہ آئے۔مرد کے او پر عورت بالعموم ہاتھ نہیں اٹھاتی۔اگر اٹھاتی ہے تو پھر اسے زیادہ نقصان پہنچتا ہے تو مرد کو بعض طبعی فوقیتیں حاصل ہیں اس کے نتیجہ میں میں خصوصیت سے مردوں کو نصیحت کرتا ہوں کیونکہ جس کو طبعی فوقیتیں حاصل ہوں جیسا کہ قرآن کریم نے فرمایا: الرِّجَالُ قَوْمُوْنَ عَلَى النِّسَاءِ (النساء: ۳۵) مرد عورتوں سے زیادہ قوی اور اس بات کے زیادہ اہل ہیں کہ انہیں صراط مستقیم پر رکھ سکیں۔پس اس پہلو سے مردوں کو اپنے متعلق جائزہ لیتے رہنا چاہئے کہ میں اپنی طاقت اور فوقیت کا ناجائز استعمال تو نہیں کر رہا لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ خدا تعالیٰ نے مرد کو جو قوام کی صفت عطا کی ہے وہ رحم دلی کے نام پر اپنی قوامیت کو قربان کر دے۔میں ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ بات بھی آپ کو سمجھاؤں۔بیویوں سے حسن سلوک عورتوں سے نرمی اور خوشی خلقی ان کے ظلم کو حو صلے کے ساتھ برداشت کرنا اور ان سے عفو کا سلوک کرنا اور رحم کا سلوک کرنا یہ ساری خوبیاں ہیں، یہ مرد کے زیور ہیں جو اُسے خدا کی نظر میں اور زیادہ دیدہ زیب بنا دیتے ہیں لیکن نرمی کے نام پر پیار اور محبت کے نام پر اصولوں کے سودے کر لینا اور اپنی قوامیت کو قربان کر دینا یہ حسن خلق نہیں ہے بلکہ سو الخلق ہے بدخلقی کا نام ہے اور خدا تعالیٰ کے ہاں یہ چیز قابل قبول نہیں ہے چنانچہ ایسے مرد جو اپنی عورتوں کو بے راہ روی میں مبتلا دیکھتے ہیں اور نرمی کے نام پر، حسنِ سلوک کے نام پر ان سے صرف نظر کرتے ہیں یا دوسروں پر زیادتی کرتے دیکھتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہ عورت ہے، کوئی حرج نہیں کہ ہم اس سے نرمی کا سلوک کریں اور یہ بے شک کسی کے متعلق زبان درازی کرتی رہے ہم حو صلے سے اسے برداشت کریں۔وہ مرد یقینا غلطی پر ہیں حسن سلوک یہ نہیں ہے۔کسی کو کسی کے خلاف چغلی کرتے دیکھتے ہیں اور مزے کے ساتھ بیٹھ کر اس کی بات سنتے ہیں اور اس کو ٹوکتے نہیں اور اسے سمجھاتے نہیں اس کا نام حسن خلق نہیں ہے اور بظاہر نرمی پھر ظلم بن جاتی ہے۔پس جب میں ظلم کی بات کرتا ہوں تو اسلام کی وسیع تر اصطلاح میں ظلم کی بات کرتا ہوں۔بعض دفعہ بختی ظلم ہے، بعض دفعہ نرمی ظلم ہے۔چنانچہ بات کو مختصر کرنے کے لئے میں نے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا حوالہ دیا کیونکہ وہ موقع ایسا نہیں تھا کہ بہت تفصیل سے یہ باتیں سب کو سمجھاتا میں نے کہا کہ آپ پر اگر زیادتی بھی ہو تو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا رنگ اختیار کریں