خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 252 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 252

خطبات طاہر جلد ۱۱ بڑی ظالم عورتیں بھی ہوتی ہیں۔, 252 خطبہ جمعہ ۱۰ را پریل ۱۹۹۲ء اس بات پر میں نے اُن کو سمجھایا کہ ابھی میں مستورات کی طرف سے ہو کر آیا ہوں اور حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ کے الفاظ میں اُن کو بھی نصیحت کی ہے کہ وہ اپنے حقوق ادا کریں لیکن یہ موقع ایسا تھا جس سے میں نے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کی اگر کسی ایک غم کے نتیجہ میں کثرت سے خوشیاں پھیل جائیں تو یہ تو بہت اچھا سودا ہے اس میں شکوے یا نا راضگی کی کوئی بات نہیں۔امرِ واقعہ یہ ہے کہ میں اس بات سے خوب باخبر ہوں کہ عورتیں بھی ظالم ہوتی ہیں، ہو سکتی ہیں ،عورتیں بھی ایسی ہوتی ہیں جو گھروں کو برباد کرنے کا موجب بن جاتی ہیں ، عورتیں بھی ایسی ہوتی ہیں جن کی طبیعت میں فساد پایا جاتا ہے اور نشوز پایا جاتا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ وہ مرد جو بعد ازاں بڑے ہو کر عورتوں پر ظلم کا موجب بنتے ہیں وہ ایسی ہی ماؤں کی گود میں پلتے ہیں جو ظالم صفت ہوتی ہیں اور اُن کے اندر خاص طور پر ایک یہ صفت پائی جاتی ہے کہ وہ اپنی بچیوں کے مقابل پر اپنے بیٹوں کو خدا بناتی ہیں اور اُن کی بہت زیادہ عزت کی جاتی ہے اور اُن کی ہر جائز ناجائز بات کو برداشت کیا جاتا ہے۔ان کی اپنی بہنیں ان کے سامنے گھر میں لونڈیوں کی سی حیثیت رکھتی ہیں کسی کی مجال نہیں کہ اپنے بھائی کے خلاف کوئی شکایت بھی کر سکیں۔چنانچہ ایسے گھر بھی ہیں جہاں عورتیں واقعہ مردوں کی عملاً پرستش کرتی ہیں اور اس کے علاوہ بہت سی ایسی معاشرتی خرابیاں ہیں جو عورتوں سے جنم لیتی ہیں اولاد میں پنپتی ہیں اور اولا د جب بڑی ہوتی ہے تو ساتھ ساتھ وہ برائیاں بھی نشو ونما پاتی ہیں اور معاشرہ گندہ ہو جاتا ہے لیکن یہ بات ان کے ذہن میں نہیں آئی کہ ان سب نصیحتوں کا وہ موقع نہیں تھا۔ایک عورت کی موت کے حوالے سے اگر عورتوں کونصیحت کی جاتی کہ تم ظلم نہ کرو تو بہت ہی بدزیب اور بیہودہ سی بات ہوتی ، مزاج سے گری ہوئی ایک بات تھی اور اس کا پیغام دنیا کو یہ ملتا کہ گویا میں اپنی بیوی کے مظالم کی شکایت کر رہا ہوں۔براہ راست اس کو کچھ نہیں کہتا لیکن اس نصیحت کے بہانے اس کو کوس رہا ہوں کہ تم مجھ پر یہ ظلم کر کے گئی ہو تو موقع اور محل کی مناسبت سے بات ہونی چاہئے۔یہ ہرگز مطلب نہیں تھا کہ میں دوسری طرف کی کمزوریوں سے ناواقف ہوں۔ایک پہلو تو یہ تھا جو وضاحت کے طور پر بیان کرنے کے لائق تھا لیکن اس ضمن میں اور بھی کچھ باتیں ہیں جو میں