خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 251 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 251

خطبات طاہر جلد ۱۱ 251 خطبه جمعه ۰ اراپریل ۱۹۹۲ء اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ کا پیغام موت سے بے خوف کرتا ہے۔عائلی زندگی میں اسوہ رسول ﷺ اپنائیں۔(خطبه جمعه فرموده ۱۰ راپریل ۱۹۹۲ء بمقام بیت الفضل لندن) تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا:۔عید کے خطبہ پر میں نے اپنی اہلیہ کی وفات کے حوالے سے جماعت کے مردوں کو پُر درد اور پر زور نصیحت کی تھی کہ اپنی بیویوں سے حسن سلوک کیا کریں اور ان کے اہل وعیال کو، ان کے والداؤں کو اور ان کی بہنوں وغیرہ کو بھی اس نصیحت میں شامل کیا تھا اور یہ بھی بیان کیا تھا کہ بعض اوقات بے بس اور کمزور عورتیں اپنے سسرال کی طرف سے طرح طرح کے مظالم کا نشانہ بنتی ہیں اور کچھ کر نہیں سکتیں۔ان کی مظلومیت میں بے اختیاری کی حالت ایک ایسی دردناک کیفیت ہے جو یقیناً ظالموں کو عذاب میں مبتلا کر سکتی ہے کیونکہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے ان دعاؤں کے ذکر میں جو بارگاہ الہی میں قبولیت کا درجہ پاتی ہیں مظلوم کی دعا کو بہت اہمیت دی ہے کہ یہ دعا ایسی ہے جو د نہیں کی جاتی تو اس وجہ سے جو نصیحت کی گئی وہ مردوں یا اُن کے خاندان والوں کے خلاف بات نہیں تھی کسی غصے یا بغض کے نتیجہ میں نہیں تھی نہ اس کا کوئی موقع تھا نہ اس کا کوئی سوال پیدا ہوتا ہے بلکہ از راہ ہمدردی میں نے ایسا کہا لیکن عید کی ملاقات کے دوران ایک صاحب ایسے ملے جو اس پر بہت ہی خفا اور ناراض تھے اور مجھ سے شکوہ کیا کہ آپ بعض دفعہ ایک ہی طرف کی باتیں کرتے رہتے ہیں دوسری طرف کا خیال ہی نہیں کرتے کیا عورتیں ظالم نہیں ہوسکتیں۔بڑی