خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 247 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 247

خطبات طاہر جلد ۱۱ 247 خطبه جمعه ۳ راپریل ۱۹۹۲ء تھے۔زندگی کا اکثر حصہ وہی جماعت کے امیر رہے اور گھٹیالیاں کالج بنانے میں بھی انہوں نے بڑی محنت کی۔یہ اس دور کے لوگ ہیں جن میں پٹواریوں میں ولی پیدا ہونا بہت شاذ کی بات ہوا کرتی تھی۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کا یہ بھی ایک نشان ہے کہ پٹوار خانوں سے اولیاء پیدا کر دیئے۔ان کی بھی چار بیٹیاں تھیں اور فاطمہ بیگم کی بھی چار بیٹیاں اور میری بھی چار بیٹیاں تو جب میں نے غور کیا تو یہ سارا تعلق قریب آگیا اور بیماری بھی وہی تھی۔ان کے کوائف وغیرہ پہلے مل چکے تھے۔مگر چونکہ مجھے بعض رؤیا وغیرہ کی وجہ سے اور جیسا کہ میں نے ذکر کیا ہے۔اُدْخُلُوهَا بِسَامٍ آمِنِينَ ( الحجر : ۴۷ ) کی خوشخبری سے دل میں یقین تھا کہ اب دن قریب ہیں اس لئے میں نے سوچا کہ ان کا جنازہ بھی بی بی کے جنازے کے ساتھ ہی پڑھاؤں گا۔ایک جنازہ حاضر اور ایک جنازہ غائب اور ساتھ واقفین کو یہ تلقین کرنے کا بہانہ بھی ہاتھ آجائے گا کہ اس کو وقف کہتے ہیں خاوند نے وقف کیا اور کامل وفا کے ساتھ بیوی نے اپنی زندگی کی ساری جوانی دین کے حضور پیش کر دی اور سارے دکھ خود اٹھائے اور خاوند کو بے فکر کر کے دین کے لئے چھوڑ دیا۔اس کے برعکس آج کے زمانہ میں ایسے واقفین ہیں کہ جب وہ باہر آتے ہیں اور جماعت کے صدقے ان کو مقامی نیشنلٹی نظر آنے لگتی ہے تو آنکھیں پھیر لیتے ہیں اور اس میں بڑی حد تک بیویاں ذمہ دار ہوتی ہیں۔اپنے خاوندوں کو کہتی ہیں کہ اب کیا ضرورت ہے بس ٹھیک ہے۔اپنی نیشنلٹی لو اور وظیفے لو۔اپنے بچوں کو یہاں تعلیم دلا ؤ جماعت میں کیا رکھا ہے۔اگر نہیں بھی کہتیں تو عملاً یہی ہے۔مجھے تحریک جدید کی طرف سے بعض لوگوں نے یہ متنبہ کیا ہے۔آپ اس معاملہ میں بہت زیادہ سہولت دئے رہے ہیں۔بہت زیادہ نرمی کر رہے ہیں۔واقفین کو ان کی بیگمات کے ساتھ اجازت ہے اور پھر لمبا عرصہ ٹھہرے رہتے ہیں تو اس سے تو خطرہ ہے کہ وہ بھاگ جائیں گے۔میں نے ہمیشہ ان کو جواب دیا کہ جو خدا کے ہیں، وہ خدا کے پاس رہیں گے ، اور جو نہیں ہیں وہ بھاگ جائیں گے۔مجھے ان کو رکھنے کی ضرورت نہیں ہے جو خدا کا ہے وہ نہیں بھاگ سکتا اس کا آخری سانس خدا کے قدموں میں ہوتا ہے اور وفا کے ساتھ وہ خدمت دین پر قائم رہتا ہے۔یہ وقف ہوا کرتا ہے تو کئی لوگ ایسے آئے ، چلے گئے وہ سمجھتے ہیں ہم چالاکیاں کر گئے ہیں مگر وَ مَا يَخْدَعُونَ إِلَّا أَنفُسَهُمْ (البقرہ:۱۰) وہ اپنے نفسوں کے خلاف چالاکیاں کر رہے ہیں ، دھوکہ دے رہے ہیں تو