خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 242 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 242

خطبات طاہر جلدا 242 خطبه جمعه ۳ را پریل ۱۹۹۲ء سامنے انتظار کر رہا ہوں۔میرے ساتھ جو بیٹیاں بیٹھی ہوئی تھیں میں نے انہیں کہا کہ اب تمہیں بات کی سمجھ آگئی ہے۔اگر حالت تشویشناک ہوتی تو مبشر بی بی کے بستر کا پہلو چھوڑ کر نہ آتا نیچے جو آ گیا ہے اس لئے اب تم تیار ہو جاؤ اور مجھ سے وعدہ کرو کہ صبر کا نمونہ دکھاؤ گی اور کوئی ایسی حرکت نہیں کروگی جس سے خدا تعالیٰ ناراض ہو میں نے کہا ہم نے دنیا کو صبر سکھانے ہیں ہم اگر ان چھوٹی چھوٹی باتوں پر اس طرح بے چین ہو جائیں اور واویلا شروع کریں تو ٹھیک نہیں ہے اور عجیب بات ہے کہ ان کی والدہ نے بھی کسی کو مخاطب کر کے کہا کہ اب تم واویلا نہ کرنا اورصبر سے کام لینا چنانچہ اللہ کے فضل سے بچیوں نے عظیم الشان نمونہ دکھایا ہے اور پوری وفا کے ساتھ اپنے عہدوں پر قائم ہیں اور آئندہ انشاء اللہ ان کو قائم رکھے گا۔یران کی بیماری کے مختصر حالات تھے۔ایک خاص بات جو میرے دل کو بہت بھائی وہ یہ تھی کہ ایک دفعہ میں نے کہا کہ بی بی میں آپ کے لئے بہت دعا کر رہا ہوں آپ کو تصور نہیں کہ کس طرح کر رہا ہوں تو کہتی ہیں صرف میرے لئے نہ کریں۔ساری دنیا کے بیماروں کے لئے کریں اور بھی تو بیمار ہیں وہ بھی تو دکھوں میں مبتلا ہیں۔میں نے کہا میں پہلے ہی ان کے لئے دعا کر رہا ہوں اور کبھی ہوا ہی نہیں کہ تمہارے لئے کروں اور توجہ پھیل کر ساری دنیا کے بیماروں تک نہ پہنچے جس جس ملک میں، مختلف Continents میں لوگ تکلیف میں مبتلا ہیں تمہارے دکھ کا فیض دعاؤں کی صورت میں سب کو پہنچ رہا ہے اس پر چہرے پر بڑا اطمینان آیا اور کہا کہ ہاں یہ ٹھیک ہے اس طرح دعا کیا کریں۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ابتداء سے آپ کا لجنہ وغیرہ سے کوئی تعلق نہ تھا کیونکہ تربیت اور رنگ کی تھی لیکن میرے کاموں میں بہت ہی بوجھ اٹھایا ہے کیونکہ میرے تعلقات بہت وسیع تھے اور ہر وقت مہمانوں کا آنا جانا لگارہتا تھا گھروں میں میٹنگز ہونی میرا بے وقت گھر سے باہر نکل جانا صبح ایک سفر پر روانہ ہوا کہ رات کو آجاؤں گا لیکن وہاں سے آگے بنگال چلا گیا۔کئی دفعہ دو دو ہفتے بعد تین تین ہفتے بعد لوٹا لیکن کبھی بھی عدم تعاون کا اظہار نہیں کیا یہ شکوہ نہیں کیا کہ آپ یہ مجھ سے کیا کرتے ہیں مجھے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اور بتاتے بھی کچھ نہیں۔میں سلسلہ کے کام کیا کرتا تھا تو بہت سی ایسی باتیں تھیں جن کا گھر میں اشارہ بھی ذکر نہیں کرتا تھا اس پر یہ شکوہ کبھی کیا کرتی تھیں کہ باقیوں کو پتا ہے آپ مجھ سے ہی راز رکھتے ہیں مجھ سے فلاں نے پوچھا کہ آپ نے فلاں کام کیا فلاں جگہ گئے مجھے