خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 236
خطبات طاہر جلد ۱۱ 236 خطبه جمعه ۳ راپریل ۱۹۹۲ء تو اس وقت بھی معدہ کسی چیز کو قبول نہیں کرتا تھا اور الٹ دیتا تھا اور ہمیں وجہ سمجھ نہیں آرہی تھی۔ڈاکٹروں نے ہر قسم کی دوائیں دیں لیکن کارگر ثابت نہیں ہوتی تھیں۔جب ہسپتال میں داخل کرائی گئیں تو پتالگا کہ دل کی نالیاں بند ہیں اور نالیاں بند ہونے کی وجہ سے یہ ساری تکلیف تھی۔چنانچہ ڈاکٹروں نے وہ نالیاں کھولیں اور بعد میں Angioplasty بھی ہوئی لیکن اس وقت تو وقتی طور پر سنبھال لیا اور پھر جب امریکہ لے کر گئے تو انہوں نے کہا کہ یہ نالیاں کھولنی پڑے گی اور اس وقت مجھے یہ ذہن میں نہیں تھا لیکن جب یہ خواب آئی تو مجھے پہلی دفعہ سے مراد یہی نظر آئی کہ پہلے بھی نالیاں بند تھیں۔قادیان میں بھی اور دتی میں بھی کوئی چیز معدہ میں نہیں ٹھہر تی تھی اور الٹی آتی تھی اور بہت تکلیف کی حالت تھی جو بھی کھاتی تھیں وہ الٹ جاتا تھا اس لئے بڑی تیزی سے کمزور ہورہی تھیں تو اس وقت خواب کے باوجود یہ اندازہ نہیں تھا کہ نالیاں بند ہونے سے کیا مراد ہے۔لیکن جب یہاں آکر ڈاکٹر نے آپریشن کیا اور پتا کی پتھری تشخیص کرتے ہوئے پتھری نکالنے کے لئے آپریشن کیا تو اس نے بغیر آپریشن کے پیٹ بند کر دیا اور مجھے یہ اطلاع بھیجی کہ ان کے معدے کی انتڑیوں کے ساتھ تعلق رکھنے والی نالیاں بند ہیں اور اس وجہ سے کھانا الگتا ہے ، اندر جاہی نہیں رہا۔میں نے اس کے متبادل کے طور پر انتری کو کاٹ کر معدہ سے براہ راست جوڑ دیا ہے اور نالی کھل گئی ہے۔چنانچہ اس کے بعد خدا کے فضل سے یہ سلسلہ جاری رہا پھر جب کیمو تھراپی کا وقت آیا تو ڈاکٹروں نے دیکھا کہ بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو بہت ہی زیادہ لمبی بیماری اور تکلیفوں سے متاثر ہو چکی ہیں۔جگر کا بڑا حصہ کینسر سے کھایا گیا تھا، گردے جواب دے رہے تھے اور خطرہ تھا کہ اگر گردے کی نالیاں بند ہوگئیں تو کسی قسم کی Chemotherapy نہیں کی جاسکتی ہمیں جب انہوں نے بتایا تو میں نے اپنی دوائی بھی شروع کی اور خاص طور پر دعا پر بہت زور دیا تو جب نتیجہ نکلا تو ڈاکٹر Evans کے یہ الفاظ تھے کہ Ducts are open نالیاں کھلی ہیں اور بڑے تعجب کا اظہار کیا کہ یہ نالیاں کس طرح کھل گئیں؟ وہ سمجھتے تھے کہ بند ہو چکی ہونگی۔جب میں نے یہ رویا گھر میں بچیوں کو بتائی تو انہوں نے کہا اس کا کیا مطلب ہے کہ شفا ہو جائے گی ؟ میں نے کہا اللہ بہتر جانتا ہے۔مجھے نالیاں کھلنے تک کا پیغام ہے اور یہ بات تو ہو چکی ہے تو عزیزہ فائزہ نے اپنے طور پر یہی تعبیر کی کہ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ ابھی فکر کی بات ہے کیونکہ اتنا حصہ پورا ہو گیا ہے اللہ نے بعد میں کوئی خبر دی ہے کہ نہیں میں نے کہا کہ مجھے تو اس