خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 224 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 224

خطبات طاہر جلد ۱۱ 224 خطبہ جمعہ ۲۷ / مارچ ۱۹۹۲ء صلى الله محمد مصطفی ہے جن کے وجود سے یہ اندھیری رات ایک قدر کی رات میں تبدیل ہوئی ہے وہ بالآخر اس روشنی پر منتج ہو جائے گی جسے فجر کی روشنی کہا جاتا ہے جو سارے عالم کو ڈھانپ لیتی ہے اور یہ روشنی آدھے زمانے کے لئے نہیں رہے گی بلکہ یہ دن دوسری دنیا پر بھی چڑھے گا اور لازماً اس کے نور سے تمام دنیا استفادہ کرے گی۔یہ وہ مضمون ہے جو قرآن کریم کی مختلف آیات کے اکٹھے مطالعہ سے بلاشبہ بڑے واضح طور پر روشن ہوتا ہے۔یہ جو آیات میں نے تلاوت کی ہیں اور جن کا سورۃ دخان سے تعلق ہے ان کا آنحضرت ملے کی آخرین میں بعثت سے تعلق ہے جس کی خوشخبری سورہ جمعہ میں دی گئی تھی اور اسی لئے اس لَيْلَةُ الْقَدْرِ کے دوبارہ ذکر کو سورہ دخان کے ساتھ وابستہ فرمایا گیا کیونکہ اس سورۃ میں ایک بہت ہی خطرناک عالمی اندھیرے کا ذکر ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے حق حمد اور محمد والا خدا ہے۔والكتب الْمُبِينِ اور اس کھلی کھلی کتاب کی قسم ، اس کھلی کھلی کتاب کی گواہی ہے۔اِنَّا اَنْزَلْنَهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبُرَكَةِ کہ ہم نے اس قرآن کو جو صاحب حمد اور صاحب مجد خدا کی طرف سے نازل ہوا ہے ایک ایسے تاریک زمانہ میں اُتارا ہے جسے برکت دی گئی ہے۔تاریک ہوتے ہوئے بھی وہ برکتوں کا زمانہ ہے کیونکہ تاریک راتوں میں جو روشنی پا جاتا ہے اس سے بڑھ کر مبارک اور کوئی نہیں ہوسکتا۔دن کے ظاہر ہونے پر جو روشنی پاتے ہیں وہ روشنی تو ہر کس و ناکس کو مل جاتی ہے مگر اصل برکتیں ان لوگوں کے مقدر میں ہوتی ہیں جو اندھیری راتوں میں روشنیاں پا جاتے ہیں تو فرمایا ایک ایسی لمبی طویل رات کا زمانہ آنے والا ہے جس کے متعلق ہم تمہیں پہلے سے ہی خوشخبری دیتے ہیں کہ اس رات کے تمام دکھوں کا علاج قرآن کریم میں ہے جو حمید اور مجید خدا کی طرف سے نازل کیا گیا۔اسی کتاب کے نزول نے آنحضرت میلہ کے طفیل دنیا کی اندھیری راتوں کو مبارک راتوں میں تبدیل کر دیا ہے لیکن یہ مبارک راتیں صرف اُن کے لئے مبارک ہوں گی جو قر آن کریم کی روشنی سے فیض اٹھا ئیں۔باقیوں کے لئے تو وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسُر کی تقدیر جاری و ساری رہے گی۔پھر فرمایا۔إِنَّا كُنَّا مُنْذِرِينَ اب دیکھیں خدا تعالیٰ کا کلام کیا فصیح و بلیغ ہے۔لَيْلَةٍ مُبرَكَةِ کے بعد بظاہر یہ آنا چاہئے کہ خوش ہو جاؤ ، مبارک راتوں کا زمانہ آ گیا ہے لیکن فرماتا ہے۔اِنَّا كنا مُنْذِرِينَ۔ہم تمہیں ڈرا رہے ہیں۔پیغام کو سمجھو ، راتیں راتیں ہی ہیں اور ان کے خطرات اسی