خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 225 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 225

خطبات طاہر جلد ۱۱ 225 خطبہ جمعہ ۲۷ / مارچ ۱۹۹۲ء طرح ہی ہیں۔ہم یہ خوشخبری دے رہے ہیں کہ حضرت محمدمصطفی امیہ سے تعلق جوڑ کر تمہاری ظلم کی اندھیری راتیں مبارک راتوں میں تبدیل ہو سکتی ہیں لیکن تمہیں ضرور کچھ کرنا ہوگا اگر تم کچھ نہیں کرو گے اور کوشش نہیں کرو گے اور محنت کر کے محمد رسول اللہ اللہ کے نور سے تعلق نہیں باندھو گے تو پھر تمہاری راتیں مبارک راتیں نہیں بن سکیں گی تو مُنذِرِینَ کہہ کر یہ بات بیان فرما دی اور پھر انگلی آیت میں فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِيمٍ میں اسی مضمون کو مزید وضاحت سے بیان فرمایا۔چنانچہ فرمایا کہ یہ کیسی راتیں ہیں۔یہ کیسا دور ہے جس میں قرآن کریم نازل فرمایا گیا ہے۔یہ ایسا دور ہے جس میں فرق کر کے دکھایا گیا ہے۔فرمایا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ يُفْرَقُ کا مطلب ہے کھول کر بیان کر دیا گیا تشہیر کر دی گئی اور فرق کر کے تمیز کر کے دکھا دیا گیا۔کس بات میں؟ أَمْرِ حَكِيْمٍ میں۔حکمت والے امر میں یعنی خدا تعالیٰ کی طرف سے قرآن کریم کا جوامر نازل ہوا ہے اس میں ہے اور پھر آمد کا مطلب تقدیر بھی ہے ہر اہم بات جس کا انسان سے تعلق ہے امرالہی سے تعلق رکھتی ہے اور آمر کا مطلب حکومت بھی ہے۔پس صاحب حکومت ،صاحب قدر، صاحب جلال خدا کی طرف سے جس کے سامنے تمام دنیا بالکل بے اختیار اور بے حیثیت ہے۔جس کا امرِ چلتا ہے کسی اور کا امرِ اُس کے مقابل پر کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔وہ جب اپنا آمد جاری فرماتا ہے تو کوئی صاحب امر رہتا نہیں ہے۔اندھیروں میں، اپنی جہالتوں میں بسنے والے لوگ بعض دفعہ اپنے آپ کو صاحب امر سمجھتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں تھوڑی دیر کے لئے امرِ عطا ہوا ہے اب ہم ہی صاحب امر ہیں مگر قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ امر صرف خدا کے لئے ہے اور جب خدا اپنا امرِ اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے تو سارے امرِ باطل ہو جاتے ہیں۔فرمایا کہ ہم نے فرق کر کے دکھانے والا کلام نازل فرمایا ہے۔ایسا کلام جس میں ہر ایسے معاملے میں فرق کر کے دکھایا گیا ہے جو صاحب حکمت ہے اور انسان کی تقدیر سے اس کا تعلق ہے۔ہر آمر حکیم کو ہر بدامر سے الگ کر کے دکھایا گیا ہے یہ معنی ہیں یعنی حکمتوں کے خزانے لٹائے گئے ہیں اور ان میں کوئی بھی کنجوس نہیں کی گئی۔كُلُّ اَمْرٍ حَكِیمِ کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی مصالح اور اس کے فوائد کے لئے جتنی بھی حکمتیں ضروری تھیں ان حکمتوں سے تعلق میں تمام امور بیان فرما دیئے گئے اور کھول کر فرما دیئے گئے یعنی انسان کی تمام ضرورتیں