خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 217
خطبات طاہر جلدا 217 خطبہ جمعہ ۲۷ / مارچ ۱۹۹۲ء نازل ہو، آسمان میں بادل ہوں، چھینٹے پڑیں اور خاص قسم کی روشنی کا آپ مشاہدہ کریں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مغفرت کی رات ہے، بخشش کی رات ہے اور پاک تبدیلی کی رات ہے، یہ نور ہے جس کو تلاش کرنا چاہئے اور یہ نور ظاہری طور پر بھی متمثل ہو سکتا ہے اس سے انکار نہیں لیکن یہ دل میں ایک شعلے کے طور پر گرتا ہے اور جس کے دل پر یہ نور نازل ہو وہ جان لیتا ہے کہ آئندہ اس کی زندگی ایک تبدیل شدہ زندگی ہے، اس پر ایک انقلاب آچکا ہے پہلی زندگی نہیں رہی اور پہلی زندگی جس کے مقابل پر ایک رات دکھائی دیتی ہے جس کے آخر پر وہ تو بہ اور قبولیت کی فجر نمودار ہوتی ہے جس کے متعلق فرمایا گیا کہ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ کہ مَطْلَعِ الْفَجْرِ تک یہ رات جاری رہے گی یعنی قدر کا آخری مقام مَطْلَعِ الْفَجْرِ ہے اور یہ مَطْلَعِ الْفَجْرِ جس کو نصیب ہو جائے گویا اس کو قدر کی رات مل گئی اگر مطلع فجر نہ ہوا تو اندھیرا تو اس کے مقدر میں رہا لیکن قدر کی رات نصیب نہ ہوئی۔لیل اور لیلۃ میں ایک فرق ہے جو مرزوقی نے خصوصیت سے بیان کیا ورنہ بہت سے اہل لغت یہ کہتے تھے یا کہتے رہے ہیں اب بھی کہتے ہوں گے کہ لیل اور لیلۃ ایک ہی چیز کے دو نام ہیں لیکن مرزوقی نے بہت ہی حکمت کی بات ہے۔مرزوقی نے کہا کہ لیل اور لیلۃ مشترک معنی بھی رکھتے ہیں۔دن کے مقابل پر رات نہار کے مقابل پر لیل ممکن ہے کہ اسی طرح ہم وزن اور ہم معنی ہوں جیسے یوم کے مقابل میں لیلہ کہا جاتا ہے۔لیکن مرزوقی نے کہا کہ حقیقت میں جس طرح لیل اور نھار کا جوڑ ہے اسی طرح یوم اور لیلہ کا جوڑ ہے اور ان دونوں کے اندر مشترک معنی پائے جاتے ہیں۔نہار ایک عام دن کو کہتے ہیں، زمانے کو نہیں کہتے چنانچہ قرآن کریم میں آپ کو کہیں بھی نہار کا لفظ ایک وسیع زمانے پر اطلاق پاتا ہوا دکھائی نہیں دے گا لیکن یوم کا لفظ قرآن کریم میں ہمیشہ ایک معین دن سے بہت بڑھ کر ایک پھیلے ہوئے وسیع زمانے کو ظاہر کرنے کے لئے بیان فرمایا گیا چنانچہ چھ ایام میں زمین و آسمان کی پیدائش یہ ظاہر کرتا کہ بہت وسیع زمانے سے بھی یوم کا تعلق ہے۔پھر قرآن کریم میں ایسے یوم کا ذکر فرمایا جو اس شمار کے مطابق جو ہم کرتے ہیں ایک ہزار سال کی مدت کے برابر ہے۔پانچ ہزار سال کا دن بھی بتایا گیا اور پچاس ہزار سال کا یوم بھی بیان کیا گیا تو اگر مرزوقی کی بات درست ہے اور یقینا درست ہے تو لیلہ میں بھی اسی طرح وسعت پائی جائے گی اور