خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 216
خطبات طاہر جلدا 216 خطبہ جمعہ ۲۷ / مارچ ۱۹۹۲ء فرمایا ہے۔الْقَدْرِ سے مراد سارا نظام تقدیر بھی ہے اور اس کے اور بھی بہت سے معنی ہیں جن سے متعلق میں مزید کچھ گفتگو کروں گا۔مگر یہ وہ راتیں ہیں جن میں انسان کی تقدیر بنائی جاتی ہے اور انسان اس تقدیر کے بننے کی راہ میں روک بھی بن جاتا ہے اور خود اپنے مقدر کو بگاڑ بھی لیتا ہے اور خدا تعالی کی طرف سے یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ کس کا مقدر بنا ہے اور کس کا بگڑا ہے۔ان معنوں میں بھی لیلتہ القدر کا تعلق ساری انسانی زندگی کے ماحصل سے ہے اور انہی معنوں میں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرِ کہ ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ہزار مہینہ انسان کی اوسط زندگی کو ظاہر کرتا ہے اور قدر کی ایک رات جس میں انسان کی تقدیر بن جائے وہ اس کی ساری زندگی سے بہتر ہے کیونکہ اس کی ساری زندگی کی غفلتیں ، اس کے گناہ اس رات دھوئے جاسکتے ہیں اور اگر یہ رات اسے نصیب نہ ہو تو ساری زندگی باطل ٹھہرتی ہے۔لیلتہ القدر جس کی تلاش کا حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے آخری عشرے میں طاق راتوں میں حکم دیا ہے اس کا ایک تعلق تو فرد کے ساتھ ہے اور ایک معین رات کے ساتھ ہے یعنی ایسی رات آتی ہے جس میں قبولیت کا ایک خاص لمحہ انسان کو عطا کیا جاتا ہے اور یہ رات ایک معین رات بن کر آتی ہے اور آخری عشرے میں اکیسویں، تیئسویں، پچیسویں ،ستائیسویں یا انیسویں رات لیلۃ القدر ہوسکتی ہے۔فرمایا اس کو تلاش کرو جس کا مطلب یہ ہے کہ آخری عشرے میں غیر معمولی طور پر جد و جہد کرو اور اپنی کمریں کسی لو جیسا حضرت محمد ﷺ کے متعلق حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ آخری عشرے میں اپنی کمر کس لیا کرتے تھے۔( بخاری کتاب الصلوۃ التراویح حدیث نمبر ۱۸۸۴) پہلے بھی بہت عبادت کرنے والے تھے مگر عبادت کا جوش آخری عشرے میں ظاہر ہوتا تھا اس کی کوئی مثال نہیں، اس کو بیان نہیں کیا جاسکتا۔اور تلاش کرو کہ تمہیں بھی نصیب ہو جائے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ رات ہے تو معین لیکن ہر شخص کے مقدر میں نہیں ہے اور قدر کے ایک معنی یہ بھی اس رات پر صادق آتے ہیں کہ یہ رات خود بخود ہاتھ بڑھا کر ہر ایک کو نصیب نہیں ہو سکتی بلکہ یہ رات خود فیصلہ کرے گی کہ میں نے کس کا مقدر بنا اور کس کا مقدر نہیں بنتا۔پس ان معنوں میں افراد کے ساتھ بھی اس کا تعلق ہے۔ایک معین رات آتی ہے معین اشخاص کو نصیب ہوتی ہے اور بہت سے ہیں جو بدنصیبی میں محروم رہ جاتے ہیں۔اس کی پہچان میں نور کی تلاش کی بہت باتیں کی جاتی ہیں اور یہ بیان کیا جاتا ہے کہ روشنی