خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 17
خطبات طاہر جلدا 17 خطبه جمعه ۱۰/جنوری ۱۹۹۲ء وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا ( النصر :۲ (۴) کہ جب تو دیکھے کہ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ اللہ کی فتح آگئی وَ الْفَتْحُ اور اسکی طرف سے فتح عطا ہوئی تو کیا نظارہ دیکھے گا۔یہ نہیں کہ تم فوج در فوج علاقوں کو فتح کرتے ہوئے دندناتے ہوئے ان علاقوں پر قبضہ کر لو گے بلکہ یہ نظارہ تم دیکھو گے کہ فوج در فوج وہ جو اس سے پہلے تمہارے غیر تھے ، جو اس سے پہلے تم سے دشمنی رکھتے تھے وہ اللہ کے دین میں داخل ہورہے ہیں گویا دین میں فوج در فوج داخل ہونے کا نام فتح ہے نہ کہ غیر لوگوں کے علاقے میں فوج در فوج داخل ہونے کا نام فتح ہے۔پس فتح کا جو اسلامی تصور اور دائمی تصویر جس میں کوئی تبدیلی نہیں ہے، قرآن کریم کی اس سورۃ نے پیش فرمایا یہی وہ تصور ہے جو حقیقی ہے، دائمی ہے، جو خدا کے نزدیک معنی رکھتا ہے اس کے سوا باقی سب تصورات انسانی جذبات سے تعلق رکھنے والی باتیں ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں۔پس اگر جماعت احمد یہ چاہتی ہے اور واقعہ تمام دنیا کی جماعت یہ چاہتی ہے کہ قادیان دائمی مرکز سلسلہ میں واپسی ہو تو ایسے نہیں ہوگی کہ تمام علاقہ تو احمدیت سے غافل اور دور رہا ہو اور تمام علاقہ اسلام سے نابلد اور ناواقف رہے اور ہم میں سے چند لوگ واپس آکر یہاں بیٹھ رہیں۔اس کا نام قرآنی اصطلاح میں نصرت اور فتح نہیں ہے اس لئے اگر کسی دل میں یہ وہم پیدا ہوا ہے تو اس وہم کو دل سے نکال دے۔پاکستان کے احمدیوں کے لئے بھی اور ہندوستان کے احمدیوں کے لئے بھی میرا یہ پیغام ہے کہ آپ خدا سے وہ فتح مانگیں اُس نصرت کے طلب گار ہوں جس کا ذکر قرآن کریم کی اس چھوٹی سی سورۃ میں بڑی وضاحت کے ساتھ فرما دیا گیا۔اِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ) وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًان کہ دیکھو تمہیں ایک عجیب اور ایک عظیم فتح عطا ہونے والی ہے۔تم اُن لوگوں کے گھروں پر جا کر قبضہ نہیں کرو گے تم لوگوں کے ممالک اور وطنوں پر جا کر فتح کے نقارے نہیں بجاؤ گے بلکہ فوج در فوج لوگ تمہارے دین میں داخل ہونگے اور یہی وہ فتح ہے، یہی وہ نصرت ہے، جو خدا کے نزدیک کوئی قیمت اور معنی رکھتی ہے۔پس خصوصیت کے ساتھ ہندوستان اور پاکستان کے احمدیوں کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج بھی ہے، ایک بہت بڑی ذمہ داری بھی ہے جسے سمجھنا اور قبول کرنا آج کے وقت کا تقاضا ہے۔آئندہ ایک سوسال محنت کے لئے تیار ہونا پڑے گا اور محنت کا آغاز کرنا ہو گا ایسی محنت جس کے نتیجہ میں روحانی انقلابات بر پا ہونے شروع ہوں۔پاکستان میں بھی اور ہندوستان میں بھی کثرت کے ساتھ احمدیت یعنی حقیقی