خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 210
خطبات طاہر جلدا 210 خطبه جمعه ۲۰ / مارچ ۱۹۹۲ء رہے ہوتے لیکن اس کتاب میں وہ حقیقت پاتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں وہ پھر مطالبہ شروع کر دیتے ہیں۔ابھی بھی جب ہم نے اپنا ایک نمائندہ روس بھیجا اور ایک نمائندہ وفد بلغاریہ بھجوایا اور دونوں کی یہی رپورٹ تھی کہ یہ کتاب فورا شائع ہونی چاہئے اور روس کی طرف سے شدت سے مطالبہ ہے۔چنانچہ ہم نے یہ طبع کروائی ہے اور بھی بہت سی کتابیں طبع کروائی ہیں۔اگلی بات میں یہ سمجھانا چاہتا ہوں کہ دعوت الی اللہ کرنے والے کو جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا اپنے منصوبے میں اس بات کو شامل کرنا چاہئے کہ کن لوگوں میں وہ زیادہ عمدگی کے ساتھ تبلیغ کرسکتا ہے۔بعض لوگ رشین سپیشلسٹ ہوتے ہیں اور اُن کو پھر انہی میں دن رات کام کرنا چاہئے۔دوسروں تک بھی بات پہنچانا فرض ہے لیکن جہاں زیادہ سہولت سے شکار حاصل ہوتا ہو شکاری پہلے وہیں جایا کرتا ہے اور بعض دفعہ ایک بڑے شکار کے لئے چھوٹے شکار کو چھوڑا بھی جاتا ہے۔چنانچہ اچھے شکاری وہ ہیں جو جائزے لیتے ہیں کہ کہاں کہاں موجود ہیں اور ان کی مرضی کا شکار ، ایسا شکار جس کو شکار کرنے کے فن آتے ہوں وہ ماہر ہوں وہ کہاں ملتا ہے چنانچہ وہ تیزی کے ساتھ اُنہی جگہوں پر جاتے ہیں اور رستے کے شکار کو چھوڑتے چلے جاتے ہیں تا کہ وقت ضائع نہ ہو اور اصل مقصد کو نقصان نہ پہنچے۔پس شکار ہے تو بظاہر مارنے والا لفظ لیکن جیسا کہ میں نے پہلے وضاحت کر دی ہے تمثیلات کی باتیں ضروری نہیں کہ سو فیصدی اطلاق پائیں۔یہ مضمون سمجھانے کی خاطر بیان کئے جاتے ہیں اور جہاں تک تبلیغی شکار کا تعلق ہے اس کا تعلق اس شکار سے ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو سکھایا گیا ہے مارنے کے لئے نہیں بلکہ اپنا بنانے کے لئے۔چنانچہ اس زمانہ میں خاص طور پر مغربی دنیا میں کثرت سے آپ کو ایسے شکاری ملیں گے جو پرندوں کی حفاظت کے لئے ان کو پھنساتے ہیں۔Extinction سے بچانے کے لئے ، فنا سے بچانے کی خاطر وہ ان کو جالوں میں قابو کرتے ہیں اور پھر بعض دفعہ وہ ان کو خاص قسم کے ٹیکے لگاتے ہیں بعض دفعہ ایسے نشان لگاتے ہیں کہ کوئی دوسرا شخص غلطی سے ان کو مار نہ بیٹھے۔کئی ذرائع اختیار کئے جارہے ہیں لیکن پہلے قابو کرتے ہیں اور ایسی مہمات بھی آپ کے دیکھنے میں آئیں گی جہاں ہاتھیوں کو بے ہوش کر کے پہلے قابو کیا جاتا ہے اور پھر ان کی بقا کے سامان کی خاطر اُن کو مناسب جگہ پہنچا دیا جاتا ہے جہاں اُن کی زندگی کم خطرے میں ہو اور خوراک وغیرہ کافی مہیا ہو تو یہ وہ طریق ہیں جن سے شکار بظاہر شکار ہے لیکن نیتیوں کے فرق کے نتیجہ