خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 206
خطبات طاہر جلدا 206 خطبه جمعه ۲۰ / مارچ ۱۹۹۲ء دیتی۔مثلاً ”سیرت خاتم النبین ہے مثلا مصلح موعودؓ کی کتاب Life of Muhammad ہے۔اگر یہ آپ ان کو دے دیں تو ان کے اندر نہ صرف یہ کہ پہلے سے بڑھ کر آپ کے لئے تعلق پیدا ہوگا بلکہ احمدیت سے ایک تعلق قائم ہو جائے گا اور اُن کو اس مطالعے کے دوران رفتہ رفتہ یہ سمجھ آئے گی کہ احمدیت تو کچھ اور چیز ہے جو ہم سمجھتے تھے وہ نہیں۔پھر طلب پیدا ہوگی اور وہ طلب آپ کے لئے مواقع پیدا کر دے گی کہ آپ ان کو کتابیں بھی دیں اور احسان بھی کر رہے ہوں گے۔پاکستان میں ایک دفعہ ایک دوست نے مجھے بتایا میں اس طرح تبلیغ کرتا ہوں کہ دانشوروں اور پروفیسروں میں میرا آنا جانا ہے ان میں سے ایسے بھی ہیں جو خدا کی ہستی کے قائل نہیں یا شک رکھتے ہیں ، فرشتوں وغیرہ کے مضمون پر مذاق اڑاتے ہیں اور کچھ ایسے ہیں جو اُن کے مد مقابل اُن سے لڑتے جھگڑتے ہیں اور بخشیں کرتے ہیں تو میں اُن کو ایسی کتابیں جیسے حضرت مصلح موعودؓ کی کتاب ملا لگتۃ اللہ ہے یا تقدیر الہی ہے یہ دیتا ہوں اور اس سے دونوں فریق میں دلچسپی پیدا ہو جاتی ہے۔جو ملائکتہ اللہ کا دفاع کر رہے ہوتے ہیں وہ حضرت مصلح موعود کی کتاب ”ملا لگتۃ اللہ جب پڑھتے ہیں تو ان کو ملائکتہ اللہ کی حقیقت معلوم ہوتی ہے۔وہ اس لائق ہو جاتے ہیں کہ واقعہ ٹھوس دلائل سے ملائکہ کی حقیقت کا دفاع کریں اور ملائکہ کے وجود کا دفاع کریں اور دوسروں کے دل میں جو شکوک ہوتے ہیں وہ اس لئے زائل ہو جاتے ہیں کہ اُن کے ہاں ملائکہ کا تصور ہی اوٹ پٹانگ اور عجیب وغریب سا ہے اور ملائکہ کا سچا تصور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ سے ہدایت پا کر ہمیں عطا کیا لیکن نیا تصور نہیں عطا کیا۔سو فیصدی قرآن کریم پر بنی سو فیصدی احادیث اور اقوال حضرت محمد ﷺ پر بنی لیکن اُس نور تک غیروں کی نظر نہیں گئی اور فرضی کہانیوں کو اپنا بیٹھے اور قرآن اور حدیث کی حقیقتوں کو نظر انداز کر دیا۔بعض دفعہ انسان فرضی کہانیوں میں بستا ہوا حقیقت کو دیکھتے ہوئے بھی پہچان نہیں سکتا یہ بھی ایک قسم کا اندھا پن ہے۔چنانچہ بہت سے غلط عقائد جو احمدی ہونے سے پہلے نئے احمدی ہونے والوں کے ہوا کرتے تھے جب احمدی ہونے کے بعد وہ مڑ کر اُن کو دیکھتے ہیں تو حیران ہوتے ہیں کہ ہمیں پہلے خیال کیوں نہیں آیا۔کیسی بے وقوفوں والی باتیں تھیں جن پر ہم ایمان رکھا کرتے تھے اور اُن کو کبھی سمجھ نہیں آتی تھی کہ یہ ہوا کیا تھا؟ مگر غفلت کی آنکھ اندھی آنکھ ہوا کرتی ہے۔اُسے دیکھتے ہوئے بھی دکھائی نہیں دے رہا ہوتا۔پس جب آپ اپنے دوستوں کو ان کے