خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 193
خطبات طاہر جلدا 193 خطبه جمعه ۱۳ مارچ ۱۹۹۲ء کونئی جرات عطا ہوتی ہے ۔ انبیاء سے جو عصمت کا وعدہ ہے اس میں یہ عصمت بھی شامل ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جو فرماتے ہیں۔ اے آنکہ، سوئے من بدویدی، بصد تبر از باغبان بترس، که من شاخ مثمرم در ثمین فارسی : ۱۰۶) : تو یہی مضمون آپ نے بیان فرمایا ہے ۔ میں تو وہ شاخ ہوں جس کو پھل لگنے شروع ہو گئے کیسے ممکن ہے کہ باغباں تمہیں اجازت دے کہ تم مجھ پر بد نیتوں سے حملے کرو اور مجھے کاٹ کر خاک میں ملا دو۔ میں پھل دار شاخ ہوں جس کو ثمر لگتے ہیں تو دعوت الی اللہ کرنے والا جب آگے بڑھتا ہے تو اس کو خدا تعالیٰ کی قربت کا احساس بھی پہلے سے بہت زیادہ محسوس ہوتا ہے اور یہ روحانی جماعتوں کی تربیت کے لئے بہت ہی اہم بات ہے ۔ دعوت الی اللہ غیر کو اپنی طرف بلانے کا نام نہیں ہے بلکہ غیر کے ساتھ خود بھی خدا کی طرف حرکت کرنے کا نام اور جوں جوں آپ دعوت الی اللہ کے تقاضے پورے کرتے ہیں تو آپ کو روحانی تجربہ بتائے گا اور جس میں ایک ذرہ بھی شک باقی نہیں رہے گا کہ آپ خدا کو پہلے سے بڑھ کر اپنے قریب دیکھیں گے اور خدا کے قریب ہونے کا احساس ایک عجیب شان سے آپ پر جلوہ گر ہوگا اور وہ شان آپ میں عاجزی پیدا کرے گی ۔ ہاں متکبر دشمن کے مقابل پر آپ کو للکارنے کی یہ صلاحیت عطا ہو گی ۔ اے آنکہ، سُوئے من بدویدی، بصد تبر از باغبان بترس که من شاخ مشمرم اس ضمن میں آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ کے واقعات پڑھ کر دیکھیں حیات قدسی مثلاً ایک کتاب ہے جس کو میں سمجھتا ہوں کہ جماعت میں عام کرنا چاہئے کیونکہ دعوت الی اللہ کے دور میں ایک کامیاب داعی الی اللہ جیسا کہ حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکٹی تھے ان کے حالات کا پڑھنا بہت مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ اس میں آپ یہ راز پائیں گے کہ آپ کو قرب الہی کے جو غیر معمولی نشانات عطا ہوئے ان میں سے اکثر کا تعلق دعوت الی اللہ سے ہے اور دعوت الی اللہ کو چونکہ آپ نے حرز جان بنالیا تھا۔ آپ نے مقصود بنا لیا تھا کسی بیمار کے سہارے بیٹھ کر بھی دعائیں کرتے