خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 187 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 187

خطبات طاہر جلدا 187 خطبه جمعه ۱۳/ مارچ ۱۹۹۲ء ہے۔پس تبلیغی منصوبہ کوئی بازیچہ اطفال نہیں ہے کہ ایک دم بیٹھے ہوئے منصو بہ بن جائے۔جو بھی منصوبہ بنائے گا وہ ابتداء میں اپنی توفیق کے مطابق جو بھی بنتا ہے بنائے لیکن جو باتیں میں سمجھا رہا ہوں ان کو پیش نظر ضرور رکھے ورنہ اس کو نقصان ہوگا۔اب حضرت نوح نے جب تبلیغ شروع کی تو جتنے طریق ممکن تھے ان سب طریق کو اختیار کیا اور ایک موقع پر فرماتے ہیں کہ میں تمہیں یہ تو نہیں کہتا کہ میرے پاس خدا تعالیٰ کے خزائن ہیں۔یہ کیوں کہا گیا ؟ اس لئے کہ بہت سے لوگ دنیا کے لالچ میں دین کو قبول کر لیا کرتے ہیں اور کئی احمدی بھی اپنی نادانی میں ایسے وعدے کر دیتے ہیں جن کے نتیجہ میں لوگوں کے دل میں بڑی طلب بیدار ہو جاتی ہے کسی نئی جگہ گئے وہاں کہا جی ! دیکھو احمدی ہو گے تو یہ فائدہ ہوگا، ہم تمہیں ہسپتال بنا کر دیں گے ہم کالج بنا کر دیں گے یہ خرچ ہوگا، غریبوں کے لئے یہ یہ کام کریں گے ، انڈسٹری قائم کریں گے، یہ وعدے وہ اپنے طور پر کرنے شروع کر دیتے ہیں اور غالبا چونکہ انہوں نے یہ سود نیئر ز دیکھے ہیں کہ افریقہ میں کیا ہو رہا ہے اور فلاں ملک میں کیا ہورہا ہے۔اس کی وجہ سے وہ سمجھتے ہیں کہ جب ہم یہ باتیں کریں گے تو لوگ جلدی ہماری طرف مائل ہوں گے لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ ہسپتالوں کی طرف مائل ہوتے ہیں ، سکولوں کی طرف ہوتے ہیں ، اقتصادی فوائد کی طرف ہوتے ہیں یا خدا کی طرف نہیں ہوتے ہیں۔پس آپ وہ آیات پڑھیں تو آپ حیران ہوں گے کہ حضرت نوح نے کس طرح کھول کھول کر بتادیا ہے اور جہاں فائدہ کی لالچ دی ہے۔وہاں اس رنگ میں دی ہے کہ اس کا انسان کی ذات سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔فرمایا اگر تم سچائی کو قبول کر لو گے تو خدا آسمان سے ایسی بارشیں برسائے گا جو تمہارے لئے مفید ہوں گی اور تمہاری اقتصادی حالت میں ایک حیرت انگیز تبدیلی کردیں گی۔زمین پہلے سے بڑھ کر اگائے گی اور تمہیں بہت ہی زیادہ اقتصادی فوائد حاصل ہوں گے۔یہ نہیں فرمایا کہ میں تمہیں دوں گا یا ہماری جماعتی کوششوں سے تمہاری اقتصادی حالت بہتر ہوگی۔پس ہم جب خدمت کی باتیں کرتے ہیں تو تبلیغ کی غرض سے لوگوں کے دل جیتنے کے لئے ان کو لالچ نہیں دے رہے ہوتے۔یہ جماعت کا مزاج ہے کہ اس نے خدمت کرنی ہے اور اس مزاج کو دنیا میں روشناس کرایا جاتا ہے لیکن براہ راست وعدہ دے کر کہ ہم تمہارے لئے یہ کریں گے تم