خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 186 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 186

خطبات طاہر جلدا 186 خطبه جمعه ۱۳/ مارچ ۱۹۹۲ء نے وعدہ کیا کہ میں سو بناؤں گا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سمجھے کہ شوق اور جوش میں انہوں نے یہ وعدہ کر لیا ہے تو ٹھیک ہے لیکن ان سے سو کہاں بنے ہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود بیان فرماتے ہیں لیکن اس کے بعد ہر سال یہ دستور قائم ہو گیا جب بھی جلسہ سالانہ پر بیعتوں کا دن آتا تھا تو مولوی عبداللہ صاحب اپنی سو بیعتیں الگ رکھتے تھے۔فرماتے تھے کہ ایک دفعہ میں نے یہ دلچسپ نظارہ دیکھا کہ میں اس میدان کی طرف جہاں دوستوں کو بیعتوں کے لئے اکٹھا کیا گیا تھا جارہا تھا تو مولوی عبداللہ صاحب پرائیویٹ سیکرٹری کی طرف جھپٹے کہ یہ میرا آدمی تم نے یہاں سے نہیں اٹھانا۔اُس نے بازو پکڑ کر اس کو کہا ہوگا یہاں نہیں بیٹھنا وہاں بیٹھو جس طرح عقاب شکار پر جھپٹتا ہے اس طرح جھپٹے کہ خبردار جو میرے آدمی کو یہاں سے اٹھایا میں حضرت خلیفتہ اسیح کو سو پورے کرا دوں پھر جہاں مرضی لے جاؤ۔اُس سے پہلے میں نے ہاتھ نہیں لگانے دینا اور وہ جب تک زندہ رہے سو پورے کرتے رہے تو سو پورا کرنا نا ممکن نہیں ہے۔ان کا منصوبہ حقیقی تھا ، فرضی نہیں تھا اور دعا ئیں بھی ساتھ شامل تھیں حقیقی اس لئے تھا کہ وہ ایک وقت میں تو ہزار پر کام نہیں کر سکتے تھے لیکن ایک سال میں کئی ہزار پر کام کرتے تھے، روزانہ تبلیغ کے لئے نکلتے تھے اور صبح کے وقت کسی کو پکڑا ، دوپہر کے وقت کسی کو پکڑا ، شام کے وقت کسی کو پکڑا، اپنے وقت کو اس طرح تقسیم کر رکھا تھا کہ دن میں چار پانچ آدمیوں سے ضرور رابطہ ہوتا تھا۔خدا تعالیٰ نے فراست عطا فرمائی تھی ، خدا تعالیٰ نے دل موہنے والی طبیعت عطا فرمائی تھی ، دعاؤں کی عادت تھی اس لئے مہینے میں وقتا فوقتا کئی دفعہ ان کی کھیتی پھل دیتی تھی۔پس اس قسم کا منصوبہ ہو جو حقیقی بھی ہو اور اگر وقتی طور پر حقیقی نہ بھی دکھائی دے تو اتنا مخلصانہ ہو کہ آپ کی تمام صلاحیتیں اس کی تائید میں جاگ پڑیں ، اٹھ کھڑی ہوں اور اس کی تائید میں دن رات لگ جائیں اور خدا سے یہ عہد کریں کہ میں نے فرضی منصو بہ نہیں بنانا۔میں نے اپنی اندرونی صلاحیتوں کا اندازہ لگا کر زیادہ سے زیادہ منصوبہ بنالیا ہے۔اب تو میری مددفر ما اور دن رات اگر محنت بھی کرے گا اور دعائیں بھی کرے گا تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور پورا کرے گا۔پھر منصوبہ کے ساتھ اس کے تفصیلی عوامل کو دیکھنا چاہئے جو تبلیغ پر اثر انداز ہوتے ہیں اور ہر ملک کے عوامل مختلف ہیں۔بعض باتیں ایسی ہیں جن سے وقتی طور پر تبلیغ میں مدد ملتی ہے لیکن بالآخر وہ نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں ان سے پر ہیز ضروری ہے۔بعض باتیں بظاہر وقتی طور پر فائدہ نہیں دیتیں لیکن بالآخر فائدہ دیتی ہیں ان کو اختیار کرنا ضروری