خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 170 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 170

خطبات طاہر جلدا 170 خطبہ جمعہ ۶ / مارچ ۱۹۹۲ء ایسی ہے جو مستقلاً ایک حالت پر نہیں رکھی جاسکتی جبکہ وہ ساری نیکیاں جو انسان اپنے لئے اختیار کرتا ہے وہ مستقلاً ایک حالت پر رکھی جاسکتی ہیں۔مثلاً نماز ہے بیمار بھی ہو ، بڑھاپے کی آخری حد کو بھی چھو رہا ہو نماز فرض ہی رہے گی خواہ اندرونی طور پر نماز پڑھنے کی سہولتیں مل چکی ہوں مگر روزے کی یہ بات نہیں ہے روزہ پوری شرطوں کے ساتھ رکھیں گے یا نہیں رکھیں گے یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ آپ بیمار ہیں تو اللہ تعالیٰ کہے کہ چلو پانی پی لو کوئی فرق نہیں پڑتا۔جب تک بیمار ہو تھوڑا کھالیا کرو پھل کھا کر دودھ پی کر گزارا کر لو لیکن روزہ ضرور رکھو پس روزے کی نیکی کا استطاعت سے گہرا تعلق ہے۔پس فَمَنْ تَطَوَّع کے ایک معنی یہ بنے کہ روزہ ایک ایسی نیکی ہے جس کا انسانی استطاعت سے گہرا تعلق ہے کہ استطاعت نہ ہو تو اس کو اختیار نہیں کرنا چاہئے اور اس سے نقصان ہو سکتا ہے۔پس صاحب استطاعت لوگ جب تک استطاعت کے زمانہ میں ہوں اس استطاعت سے استفادہ کریں تو اس کی جزا خدا بنے گا اور اللہ تعالیٰ محض اپنی خاطر ایک چیز چھوڑنے والے کو جس کی عام حالت میں اجازت ہو غیر معمولی طور پر عزت بخشتا ہے اور اسے اپنا قرب عطا کرتا ہے۔اب روزے کے ساتھ بعض ایسی برائیاں بھی لگی ہوئی ہیں جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا کہ ظاہری جسمانی کمزوریاں بعض برائیاں بھی اس کے اندر نظر آتی ہیں لیکن خدا کی خاطر انسان برداشت کر سکتا ہے ان میں سے ایک منہ کی بد بو ہے۔اب آنحضرت ﷺ ایسے لطیف مزاج کے حامل تھے کہ آپ کو جو طبعی شوق تھا آپ خود فرماتے تھے کہ کو تھا ہیں جن سے میری فطرت کو ایک طبعی لگاؤ ہے ان میں ایک خوشبو تھی اور بد بو سے سخت متنفر تھے اور یہ لطافت اور یہ نظافت آپ نے خدا سے پائی تھی۔ہر چیز ہم خدا ہی سے پاتے ہیں مگر خدا سے ان معنوں میں پانا کہ خدا کے مزاج اختیار کر کے انسان الہی رنگوں میں رنگین ہو جائے اور ویسی ہی لطافت کے مظاہرے کرے لیکن روزے کے متعلق فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ روزے دار کی منہ کی بو بھی مجھے ایسی پسند ہے کہ مشک کی بو بھی اس کے سامنے کوئی بھی حیثیت نہیں رکھتی اس لئے کہ میری خاطر کیا ہے۔تو روزے کے کچھ ظاہری نقصانات بھی دکھائی دیتے ہیں لیکن چونکہ وہ محض اللہ کی محبت کی خاطر اختیار کئے جاتے ہیں اس لئے خدا تعالیٰ ان صورتوں کو جو عام حالات میں قابلِ نفرت ہیں ان کو بھی قابل محبت حالتوں میں بدل دیتا ہے ورنہ بد بو اور بد بو کی پسندیدگی ایک وقت میں اکٹھے رہتے ہوئے نظر نہیں آتے ایک دوسرے سے متضاد دکھائی دیتے ہیں اور چونکہ یہ محبت کا مضمون ہے اس لئے