خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 168 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 168

خطبات طاہر جلد ۱۱ 168 خطبہ جمعہ ۶ / مارچ ۱۹۹۲ء دریا کا سا مضمون بیان ہوا۔ایک ایسے مسافر کا سا مضمون ہے جو رستے پر چلتا چلا جاتا ہے اور ہر قدم اسے مزید ہدایت کی طرف لے جاتا ہے۔پھر فرمایا فانه لی وانا اجزی به بخاری کتاب الصوم حدیث نمبر ۱۹۰۴) وہ میرے لئے عمل کرتا ہے پس میں اس کا اجر ہوں۔اس میں ایک چھوٹی سی مشکل ہے جس کا حل کرنا ضروری ہے۔آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ انسان جو دوسرے اعمال کرتا ہے وہ اپنے لئے کرتا ہے اور روزہ میرے لئے رکھتا ہے حالانکہ کوئی عمل بھی جو خدا کے لئے نہ کیا جائے وہ بے معنی اور نامراد ہوتا ہے۔اور مومن کی شان کے تو خلاف ہے کہ وہ سارے عمل اپنے لئے کرے اور صرف ایک روزے کا عمل خدا کی خاطر کرے۔حضرت اقدس محمد اللہ کا تو یہ حال تھا کہ کوئی ایک ادنی سی حرکت بھی اور ادنی سا سکون بھی ایسا نہیں فرماتے تھے جو خدا کی خاطر نہ ہو۔بیوی کے منہ میں لقمہ بھی ڈالتے تھے تو اللہ کی خاطر تو پھر آپ یہ کیا فرمارہے ہیں اس کو خوب سمجھ لینا چاہئے ورنہ کسی غلط فہمی کا شکار بھی ہو سکتے ہیں۔مومن کی ہر قسم کی عبادت بالآخر خدا کی خاطر ہوتی ہے پھر روزے میں اور عام عبادت میں یہ کون سی تفریق ہے جو آنحضرت ﷺ نے فرمائی اس مضمون کو سمجھنا چاہئے۔ہم روز مرہ جو عبادتیں کرتے ہیں ان عبادتوں پر اگر ہم قائم رہیں تو ہمارے لئے فی ذاتہ وہ کافی ہے اور خاص طور پر یہ بات سمجھنی چاہئے کہ کھانا پینا جائز ہے۔اپنی اہلیہ سے تعلقات جائز ہیں اور اس قسم کی بہت سی باتیں جائز ہیں جن کی خدا نے ہمیں اجازت دے رکھی ہے۔پس اس حالت میں زندگی بسر کرنا جس میں خدا کی عطا کردہ نعمتوں سے استفادہ کی اجازت ہے اور بعض جگہ پابندی ہے دراصل اس مضمون کو ظاہر کرتا ہے کہ پابندیاں سو فیصدی ہماری خاطر ہیں۔اگر ہم ان پابندیوں کو توڑیں گے تو نقصان اٹھائیں گے اور استفادہ جن شرائط کے ساتھ کرنے کی اجازت ہے اس طرح استفادہ کریں تو ہمیں کوئی نقصان نہیں ہے اور ہمیں فائدہ پہنچ رہا ہے۔پس اس سود و زیاں کے مضمون کو خوب کھول کر روز مرہ کی زندگی میں ظاہر فرما دیا گیا اور انسان جو حقیقت میں نیکی کو سمجھتے ہوئے نیکی بجالاتا ہے وہ جانتا ہے کہ یہ سب کچھ اپنی خاطر کر رہا ہے اور رکنے میں اس کا فائدہ ہے جہاں روکا گیا ہے۔چلنے میں اس کا فائدہ ہے جہاں اس کو چلنے کی اجازت دی گئی ہے۔پس یہ سارا مضمون اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ہر چیز جو انسان بظاہر خدا کی خاطر کر رہا ہے درحقیقت اس کے اپنے فائدہ کے لئے