خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 164
خطبات طاہر جلدا 164 خطبہ جمعہ ۶ / مارچ ۱۹۹۲ء سے روزہ رکھنے کی اجازت اگر ذہن میں ہو تو اس کا ذکر نہ کر کے اس خیال کو رد فرما دیا گیا۔پس قرآن کریم جب تکرار کرتا ہے تو بے وجہ تکرار نہیں کرتا۔کسی احتمال غلطی کو دور کرنے کی خاطر قرآن کریم تکرار کرتا ہے یانئے مضامین کی طرف توجہ دلانے کے لئے تکرار فرماتا ہے۔فرمایا مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَر۔یاد رکھو اگر تم مریض ہو یا سفر پر ہوتو تمہیں دوسرے ایام میں روزے رکھنے ہوں گے۔يُرِيدُ اللهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْر اس بات کو کھول دیا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لئے آسانی کو پسند فرماتا ہے تکلیف کو پسند نہیں کرتا۔مریض کے لئے اگر وہ حقیقی مریض ہو یعنی اپنے نفس کے تو ہمات کا مریض نہ ہو بلکہ واقعہ مجبور ہو، روزہ رکھنے کی اجازت نہ دینے میں ایک بڑی حکمت یہ ہے کہ روزے کے ساتھ عبادات چلتی ہیں اور بہت سی نیکیاں اختیار کرنی پڑتی ہیں۔ایک شخص جو حقیقتا مریض ہو اس کو اگر روزے کی مشقت میں ڈال دیا جائے تو اس کا جینا دوبھر ہو جاتا ہے۔اُس کے لئے خیالات کی پاکیزگی اور یکجہتی کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرنا ممکن نہیں رہتا اور وہ عبادات کا حق ادا نہیں کر سکتا اس لئے محض اس وجہ سے کہ سب نے روزے رکھے ہوئے ہیں اب روزہ رکھ لوں تو آسانی پیدا ہو جائے گی اگر وہ روزے رکھتا ہے تو یہ نیکی نہیں ہے بلکہ کمزوری کا نشان ہے۔پس قرآن کریم نے جو احکامات نازل فرمائے ہیں ان میں گہری حکمتیں ہیں اُن سے پوری طرح استفادہ کرنا چاہئے لیکن شرط یہ ہے کہ مریض حقیقی ہو اور نفس کا بہانا نہ ہو۔پھر فرمایا وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللهَ عَلَى مَا هَدُ يكُم تاکہ تم اس عدت کو پورا کر سکو۔جب یہ فرمایا کہ اگر بیمار ہو یا سفر پر ہو تو تم نے رمضان میں روزے نہیں رکھنے ، بعد میں رکھنے ہیں تو بعد میں رکھنے کی حکمت اب بیان فرمائی ہے کہ ہم بعد میں اس لئے کہہ رہے ہیں تا کہ اس عدت کو جو مومنوں پر فرض کی گئی ہے پورا کر سکو اور اس میں محروم نہ رہ جاؤ۔پس بعد کے روزے رکھ کر تم مہینے کے میں ۳۰ روزوں کی تعداد کو پوری کر لو گے یا ۲۹ کی تعداد کو پوری کر لو گے تو تمہیں اطمینان ہو جائے گا کہ ہمیں کوئی ایسا نقصان نہیں ہوا جس کی تلافی نہیں ہو سکتی۔اس میں مریضوں اور سفر والوں کو یہ تسلی دی گئی ہے اگر چہ تم رمضان کے مبارک مہینے میں