خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 154
خطبات طاہر جلد ۱۱ 154 خطبه جمعه ۲۸ رفروری ۱۹۹۲ء اس کا نور سے کوئی تعلق نہیں۔نور محمد مصطفے ﷺ سے اس کا دور کا بھی علاقہ نہیں۔حضرت اقدس محمد مصطفے ﷺ کے اندار کا یہ رنگ ہے کہ دوسروں کو ڈراتے ہیں اور اُن کے غم میں خود ہلاک ہوتے چلے جارہے ہیں۔لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (الشعراء:٤) اسے محمد یہ تو کیسا انذار کر رہا ہے۔لوگوں کو ڈرا رہا ہے اور اُن کے خوف سے اپنی جان کو ہلکان کرتا چلا جارہا ہے۔اُن کے دکھ میں خود مبتلا ہو گیا ہے۔اس رنگ سے ، اس محمد تمی طریق سے انذار کریں تو پھر آپ کے انذار کے نتیجہ میں زندگی پیدا ہوگی۔خوف سے لوگ بلک کر دور نہیں بھاگیں گے بلکہ اس انذار کے باوجود آپ کے قریب آئیں گے۔پس مومن کی وہ تبشیر اور مومن کا وہ انذار جو حضرت محمد مصطفى ع الله فی وه ک داب اور اسلوب اور طریق پر ہو وہ ایسا انذار ہے اور وہ ایسی تبشیر ہے جولوگوں کو بڑی شان کے ساتھ اور بڑی قوت کے ساتھ کھینچتے ہیں اور اس طرح دعوت الی اللہ کا حق ادا کرنے کے اہل بن جاتے ہیں۔باذنه فرمایا کہ تم جو چاہو کوشش کر لو یہ وہ کھیتی ہے جو پھل دعاؤں کے ذریعہ دے گی محض ہل چلانے اور محنت کرنے کے نتیجہ میں خود بخود اس میں پھل نہیں لگیں گے کیونکہ یہ مردوں کو زندہ کرنے والا معاملہ ہے۔یہ دنیا کے عام قوانین سے بالا ایک قانون ہے جبکہ ساری دنیا کی توجہ مادہ پرستی کی طرف ہو اور ان کو ہر قسم کی ظاہری لذتیں میسر ہوں ان کو بظاہر ایک اجاڑ زندگی کی طرف کھینچ لانا، کامل آزادی کی زندگی سے پابندیوں کی ایک زندگی کی طرف دعوت دینا ، باہر کی آزاد دنیا میں سانس لینے کی بجائے محمد مصطفی ﷺ پر نازل ہونے والے قوانین کے زنداں خانے میں داخل ہونے کی دعوت دینا۔جہاں صبح شام اٹھتے بیٹھتے ہر قدم پر قدغنیں ہوں گی۔ایسی پابندیاں ہوں گی کہ یہ نہیں کرنا، یہ کرنا ہے اور وہ کرنا ہے تو ایسی زندگی کی طرف دعوت دینا کوئی آسان کام تو نہیں۔دعوت آپ جس طرح چاہیں دے دیں دلوں کو بدلنا آپ کے قبضہ میں نہیں ہے وہ دعا سے حاصل ہوتا ہے۔تو باذنہ سے مراد یہ ہے کہ اگر محمد مصطفی ہو نے خدا کے اذن سے مردے زندہ کئے تھے ، اگر آپ کی صلى الله دعوت کو اللہ کے اذن سے پھل لگے تھے تو پھر اے محمد مصطفی ہے کے غلامو ا تم جو بہت ادنی مقامات پر فائز ہو تم اس وہم کا کیڑا بھی اپنے دماغ میں داخل نہ ہونے دینا کہ محض تمہاری کوششوں سے تمہاری دعوت الی اللہ کامیاب ہو جائے گی بِاِذْنِیم کی طرف نظر رہے اور اللہ سے اذن حاصل کرنے کے