خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 153 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 153

خطبات طاہر جلد ۱۱ 153 خطبه جمعه ۲۸ فروری ۱۹۹۲ء اس سے گہرا تعلق ہے یہ ایک Equation ہے جو سائنسی Equation ہے۔اس کو کوئی بدل نہیں سکتا۔ناممکن ہے کہ کوئی سوسائٹی خدا سے دور جارہی ہو اور دنیا کے کوئی ذرائع اُسے جرائم سے پاک وصاف کرسکیں ، کوئی دنیا کا قانون ایسا نہیں کرسکتا۔قانون تو انسانی جسم کی حدود سے باہر تک کام کرتا ہے اور مجرم کرنے ، نہ کرنے یا اس کے رجحانات کا تعلق انسانی نیتوں سے ہے اور اُن خواہشات سے ہے جنہیں وہ آزاد بھی چھوڑ سکتا ہے اور پابند بھی کر سکتا ہے اور یہ وہ جگہ ہے ، یہ انسان کی وہ کائنات ہے جس تک صرف خدا کی رسائی ہے۔پس خدا پر ایمان جتنا کمزور ہوگا، خدا سے تعلق جتنا ہلکا ہوتا چلا جائے گا اسی قدر جرائم نے لازماً بڑھنا ہے۔پس اس نسبت سے ان کو سمجھنا چاہئے اور پھر ان معنوں میں بھی یہاں شہادت دینی چاہئے کہ ہم نے تو خدا سے قریب ہو کر ، ان برائیوں سے نسبتاً پاک ہو کر اس دنیا میں ہی ایک قسم کی جنت حاصل کر لی ہے۔ہم غریب بھی ہیں تو ہمیں تسکین قلب نصیب ہے، ہم قربانیاں دیتے ہیں تو تکلیف کی بجائے لطف محسوس کرتے ہیں تم چار آنے ٹیکس زیادہ دے دو تو ذہنی عذاب میں مبتلا ہو جاتے ہو۔ہم ہزاروں روپے دے کر بھی اگر تکلیف محسوس کرتے ہیں تو صرف یہ کہ کاش ہم زیادہ دے سکتے لیکن اس میں بھی ایک لطف ہے۔پس ہماری تکلیفوں میں بھی ایک سکینت ہے اس میں بھی جنت کا مزہ ہے اور تمہارے دنیا کے آراموں میں بھی ایک جہنم ہے۔یہ ایک ایسا مضمون ہے جو بالکل سچا ہے۔آپ اپنے گردو پیش میں اپنے دوستوں کے حالات پر نظر ڈالیں جتنے بے تکلف ہوتے جائیں گے اتنا ہی آپ پورے یقین کے ساتھ خود بھی سمجھیں گے اور اُسے بھی سمجھا سکیں گے کہ دنیا کی لذتوں کی پیروی کے نتیجہ میں ایک قسم کا ہیجان تو مل جاتا ہے لیکن سکینت نہیں ملتی تسکین قلب نصیب نہیں ہوتا یہ صرف اللہ کی محبت اور اس کے ذکر سے ملتی ہے تو انذار سے یہ مراد نہیں ہے کہ کسی کو کہہ دیں کہ جاؤ تم جہنمی ہو۔انذار سے مراد یہ ہے کہ اس کی جہنم اس کو اس طرح دکھا ئیں کہ آپ اُس کی تکلیف میں شامل ہوں، اُس کا دکھ محسوس کرنے والے ہوں اور حضرت محمد مصطفے عام کا انذار بعینم اس طرز کا انذار تھا۔ملاں والا انذار نہیں تھا کہ مانتے ہو تو مانو نہیں تو جاؤ جہنم میں شلوار کا ایک پائنچہ ٹخنے تک اونچا ہو گیا تو کہہ دیا کہ جاؤ تم جہنمی ہو چکے ہو۔کوئی سوال کر بیٹھے تو کہہ دیا کہ تم نے سوال ایسا کیا ہے کہ تم کافر ہو گئے۔یہ انذار تو ظالمانہ انذار ہے، جہالت کا انذار ہے ، تاریکیوں کی پیدائش ہے،