خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 151
خطبات طاہر جلد ۱۱ 151 خطبه جمعه ۲۸ رفروری ۱۹۹۲ء کا ایک نیا رُخ ہمارے سامنے رکھ دیا۔آپ کو اس بات کا شاہد بننا ہوگا کہ ہاں ایک زندہ خدا موجود ہے اور یہ گواہی اپنی ذات میں دینی ہوگی۔خدا کی ہستی کے سب سے زیادہ قوی ثبوت کے طور پر خود انبیاء کی ذات خدا کے سامنے پیش کی جاتی ہے دنیا کا کوئی مفکر، کوئی فلسفی کسی دلیل کے ذریعہ قطعی طور پر اللہ تعالیٰ کے وجود کو ثابت نہیں کر سکتا جیسا کہ انبیاء کی ذات اپنی ذات میں خدا پر گواہ بن جاتی ہے۔پس ان معنوں میں شاہد بننے کے لئے وہ خوبیاں جن کا میں نے پہلے ذکر کیا ہے عمومی خوبیاں ، اخلاقی خوبیاں ، کمزوریوں سے پاک ہونے کی کوشش یہ ابتدائی قدم ہیں لیکن جب دعوت الی اللہ کے لئے نکلیں گے تو یہ نصیحت کی گئی ہے کہ دور کے کوئی گواہ ان کے سامنے نہ رکھو، کوئی دور کی شہادتیں پیش نہ کرو۔پہلے اپنی شہادت پیش کرو اور بتاؤ کہ میں نے خدا کو کیا دیکھا ہے ، میں نے کیا پایا ہے ، مجھ سے اس نے کیا سلوک کیا ہے، مجھے اس کے قریب ہونے سے کیا فائدے پہنچے۔ان معنوں میں اگر آپ شاہد ہوں گے تو آپ مبشر بھی ہو جائیں گے۔اگر ان معنوں میں شاہد نہیں ہوں گے تو آپ کی تبشیر بے معنی ہوگی۔خود ہر قسم کے اندھیروں میں بھٹکتے ہوئے مصیبتوں میں مبتلا ، جب سہاروں کی ضرورت ہو تو بے سہارا محسوس کرنے والے، لوگوں کو خوشخبریاں دے رہے ہوں گے کہ آؤ ایک ایسے خدا کی طرف آؤ جو ہر قسم کی ضرورتیں پوری کرتا ہے ، ہر قسم کے اندھیروں سے نکالتا ہے ہر قسم کے مصائب کو آسانیوں میں بدل دیتا ہے۔ہر قسم کے غموں کو خوشیوں میں تبدیل فرماتا ہے ہر قسم کے رنجوں کو دور کرتا ہے، ہر قسم کے فکروں کو امیدوں میں تبدیل فرما دیتا ہے، یہ بشارتیں آپ کیسے دیں گے؟ یہ کہہ کر کہ تیرہ سو سال پہلے ایسا ہوا تھا اور دو ہزار سال پہلے ایسا ہوا اور اس سے پہلے ایسا ہوا تھا یہ باتیں تو پھر کسی کے دل کو لگیں گی نہیں۔اپنی ذات میں ضرور آپ کو کوئی گواہی دینی ہوگی۔اور میں یہ یقین رکھتا ہوں کہ ہر احمدی کو اللہ تعالیٰ ایسے ذاتی تجارب عطا فرماتا ہے کہ جس کے نتیجہ میں وہ گواہ بنے کی صلاحیت رکھتا ہے اگر ایک انسان اپنی ذات کو خوب ٹٹول کر دیکھے تو اُسے خدا کے وجود کی وہ جھلکیاں اپنی ذات میں دکھائی دینے لگیں گی۔روزمرہ کی زندگی میں خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ہر احمدی کو ایسے تجارب ہوتے رہتے ہیں جن کے ذریعہ اس کا ایمان تقویت پاتا ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ یہ زمانہ خدا کے ایمان والا زمانہ نہیں رہا۔اس قدر دہریت کا شہرہ ہے اور اس قد ر مادہ پرستی ہے کہ بقول اکبر