خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 150
خطبات طاہر جلد ۱۱ 150 خطبه جمعه ۲۸ فروری ۱۹۹۲ء ایسے بیان ہوئے ہیں جو ہر داعی الی اللہ کے لئے لازم ہے کہ انہیں اپنائے اور مستقل طور پر ان کو اپنے او پر مرتسم کرلے اور ایک ان میں سے شَاهِدًا ہے، ایک ہے مُبَشِّرًا ، اور ایک ہے، نَذِيرًا۔شاہد کے متعلق میں پچھلے خطبہ میں بھی بیان کر چکا ہوں اور آج بھی کچھ وضاحت کی ہے۔مبشر سے متعلق میں خصوصیت سے دعوت الی اللہ کرنے والوں کو متوجہ کرتا ہوں کہ انبیاء پہلے خوشخبریاں دیا کرتے ہیں اور ڈرانے کی باری بعد میں آتی ہے۔اس لئے جہاں بشیر اور نذیر کا ذکر آیا ہے ، انذار بشارت کے بعد بیان ہوا ہے، بالکل واضح بات ہے۔تو پہلے اس کے کہ آپ لوگوں کو ڈرا کر اپنے سے بھی بھگا دیں اور بد کا دیں ضروری ہے کہ ان کو وہ خوشخبریاں بتائیں جن کے نتیجہ میں ان کی زندگیاں بدل جائیں گی تکلیفیں دور ہوں گی ان کے مسائل حل ہوں گے، ان کو کچھ حاصل ہوگا۔ایسی بات کی طرف ان کو بلائیں جس کے نتیجہ میں ان پر واضح ہو چکا ہو کہ ہمیں ہر قسم کے فوائد میسر آئیں گے، ہماری دنیا بھی سنورے گی اور ہماری عاقبت بھی سنورے گی۔پس تبلیغ کے لئے بشیر ہونا سب سے زیادہ ضروری ہے اور شاہد کے بعد سب سے اول ہے۔شاہد کا تعلق آپ کی ذات سے ہے۔آپ اپنی ذات کو چمکائیں اور خوب تر بنا ئیں یہاں تک کہ آپ لوگوں کے لئے دلکشی کا موجب بن جائیں تا کہ آپ صحیح معنوں میں شاہد بن سکیں پھر بشارت کی باری آتی ہے۔پھر آپ لوگوں کو خوشخبریاں دیں کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو بچانے کے لئے سامان پیدا کر دیئے ہیں۔خدا تعالیٰ قریب آ گیا ، وہ ظاہر ہو گیا اس کے لئے کسی دوسرے واسطے کی ضرورت نہیں وہ تمہاری دعائیں بھی سنے گا۔یہ وہ زمانہ ہے جہاں وہ بچوں کی دعائیں بھی سنتا ہے۔اور اس کا فیض عام ہوتا چلا جارہا ہے۔تم اس خدا سے تعلق جوڑو تو تمہیں یہ فائدے ہوں گے۔اور ان فوائد کو وہ اپنی شہادت کی نسبت سے بیان کرے کیونکہ سب سے پہلے اس کا اپنا وجود اس کے سامنے ہے بعض لوگ دوسروں کی مثالیں دے دے کر خدا کے پیار پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس مضمون کا بھی فائدہ ہے اور ضرورت پیش آتی ہے۔جو کمی انسان میں ہو وہ کمی دوسروں کی نسبتاً اعلیٰ درجہ کے وجودوں کی مثالوں سے پوری کی جاسکتی ہے۔در حقیقت اسی کا نام شفاعت ہے لیکن اس کی باری بعد میں آئے گی پہلے اپنے متعلق تو بتائیں کہ میں نے خدا میں کیا دیکھا اور خدا سے کیا پایا۔پس یہاں آپ کی شہادت سے مبشر کا ایک ایسا تعلق بھی قائم ہوا ہے جس نے شہادت