خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 145
خطبات طاہر جلد ۱۱ 145 خطبه جمعه ۲۸ رفروری ۱۹۹۲ء سے بہت مشکل کام ہے کیونکہ دراصل یہ مُردے کو زندہ کرنے والا کام ہے اور جیسا کہ حضرت مسیح کے مُردوں کو زندہ کرنے کے مضمون کے ساتھ اللہ تعالے نے اِذْنِم کی وضاحت فرما دی اسی طرح حضرت محمد مصطف ملالہ کو بھی مردوں کو زندہ کر دینے والا قرار دیا ، بیان فرمایا اور یہ وہی مضمون ہے جس کی طرف اشارہ ہے۔آپ کیسے مُردوں کو زندہ کرتے تھے؟ دعوت الی اللہ کے ذریعہ اور جب دعوت الی اللہ کے ذریعہ مُردوں کو زندہ کرتے تھے اور اللہ کے اذن سے ایسا ہوا کرتا تھا ورنہ روحانی مُردوں کو زندہ کرنا انسان کے بس کی بات نہیں۔وَسِرَاجًا منیرا خود تو روشن ہیں ہی لیکن روشن کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں اور یہ وہ مضمون ہے جس کا لفظ خاتم سے گہرا تعلق ہے۔خَاتَم اُس مُہر کو کہتے ہیں جس میں کچھ تصویر کندہ ہو یا الفاظ کندہ ہوں اور اس میں یہ صلاحیت ہو کہ وہ جس چیز پر لگے اس میں اپنی جیسی شکل کے نشان پیدا کر دے، اپنی جیسی شکل کے نقوش پیدا کر دے۔پس حضرت اقدس محمد مصطفے ﷺ کا خاتمہ قرار دیا جانا آپ کے فیوض کو بند کرنے کی طرف اشارہ نہیں بلکہ تمام فیوض کے جاری کرنے کی طرف کھلی دلالت ہے یعنی خاتم سے مراد یہ ہے کہ جو اپنے آثار کو دوسروں میں پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔یہ رجولیت کی نشانی ہے، یہ اس بات کی علامت ہے کہ کوئی شخص نامراد اور لا ولد نہیں ہے بلکہ اس میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ آگے اپنے جیسے انسان پیدا کر سکے ، اپنے جیسے مرد پیدا کر سکے۔پس چونکہ آیت خَاتَمَ النَّبِيِّنَ کا پس منظر یہی بیان ہوا کہ دشمن آپ کو لا ولد کہتے تھے یعنی کسی مرد کا والد نہ ہونے کی وجہ سے گویا آپ کی نسل منقطع ہونے پر دلالت کرتے ہوئے آپ کے لئے بعض سخت الفاظ استعمال کیا کرتے تھے جن کا قرآن کریم میں ذکر ہے تو اُس پس منظر میں جب آپ لفظ خاتم کو پڑھتے ہیں تو یہ بات صاف دکھائی دیتی ہے کہ جو جو الزامات ہیں ، جو جو پس منظر بیان کیا گیا ہے اس سب کی نفی فرمائی جا رہی ہے اور نفی ان معنوں میں فرمائی جا رہی ہے کہ دنیاوی لحاظ سے اگر چہ بظاہر تو مردوں کا باپ نہیں لیکن اے محمد ! ہم نے تجھے خاکہ بنادیا، تجھ میں وہ صفات حسنہ پیدا کیں جو آگے تو دوسروں میں پیدا کرسکتا ہے اور روحانی میدان کے، تیرے جیسے مرد تجھ سے پیدا ہوں گے اور بکثرت پیدا ہوں گے۔اسی مضمون کو دَاعِيَّا إِلَى الله میں بیان فرما دیا گیا اور سِرَاجًا منیرا میں بیان فرمایا گیا۔تو روشن چراغ ہے، ایسا چراغ جو دوسرے اندھے چراغوں کو بھی روشن کر سکتا ہے اور ایک کی بجائے دو تین چار پانچ