خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 144 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 144

خطبات طاہر جلد ۱۱ 144 خطبه جمعه ۲۸ رفروری ۱۹۹۲ء ایسا کرو گے تو تمہارے لئے خوشخبریاں مقدر ہیں۔اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو تمہارے لئے بہت بڑی رسوائیاں اور ذلتیں اور عذاب اور نا مرادیاں ہیں۔تو بشیر اور نذیر کا مضمون اس دنیا پر ہمارے اعمال کی اصلاح کی خاطر بھی استعمال ہوتا ہے اور اس دنیا پر ہمارے اعمال کے عواقب کو ظاہر کرنے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے بعد ازاں فرمایاوَدَاعِيًّا إِلَى اللهِ اور ہم نے تجھے داعی الی اللہ بنایا ہے۔بِاِذْنِ اللہ کے حکم سے۔وَسِرَاجًا منيرا۔اور ایک روشن چراغ بنا یا جو دوسرے چراغوں کو بھی روشن کرنے والا ہے۔جہاں تک یہ داعی الی اللہ کا محاورہ ہے ممکن ہے کسی اور نبی کے متعلق بھی ایسا محاورہ استعمال ہوا ہولیکن میری نظر سے نہیں گزرا۔یہ ایک ایسا محاورہ ہے جس کو حضرت اقدس محمد مصطفے ﷺ کے لئے گویا خاص کیا گیا حالانکہ ہر نبی کا متبع داعی الی اللہ ہوتا ہے۔دوسرے معنوں میں تو ضرور انبیاء کے متعلق یہ لفظ ملتے ہیں لیکن اس ترکیب کے ساتھ کہ اے نبی ! تو داعی الی اللہ ہے اُسے مخاطب کر کے لقب کے طور پر میرا مطلب ہے کہ کسی نبی کے متعلق میں نے یہ لفظ نہیں پڑھا کہ خدا نے اُسے اس لقب سے نوازا ہو کہ تجھے میں داعی الی اللہ بنا تا ہوں اور تجھے داعی الی اللہ مقرر کیا جاتا ہے۔بِاِذْنِم ، اللہ کے حکم سے۔داعی الی اللہ تو سب ہیں لیکن تو ایک ایسا داعی الی اللہ ہے جسے خصوصیت کے ساتھ خُدا کے اذن کے ساتھ دعوت پر مقرر فرمایا گیا۔یہ لقب خصوصیت سے حضرت اقدس محمد مصطفی ملی کے اعزاز کے لئے اور آپ کے عالی مرتبہ کے اظہار کے لئے استعمال ہوا ہے۔یہاں بِاذْنِهِ نے ایک اور معنی پیدا کر دیا اور وہ یہ ہے کہ بہت سے ایسے کام ہیں جو انسان کے بس میں نہیں ہوتے اور ان کی طاقت سے باہر ہو جاتے ہیں۔اُس حد سے پرے دعاؤں کے اعجاز کا مضمون شروع ہوتا ہے اور وہ طاقتیں جو انسان کو میسر نہیں کیونکہ خدا تعالیٰ کو میسر ہیں اس لئے اپنے بندوں کو وہ بعض دفعہ ایسے کاموں کے لئے کہتا ہے جو بظاہر ناممکن ہیں مگر خدا کی طاقت کے شامل ہونے سے وہ ظاہر ہو جاتے ہیں اور دنیا سمجھتی ہے کہ یہ خدائی کام تھا جو ایک بندے سے سرزد ہوا مگر انبیاء اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ ہماری طاقت نہیں ہے یہ اللہ کے حکم سے ایسا ہوا۔چنانچہ حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کا جہاں مُردوں کو زندہ کرنے کا ذکر ہے اور معجزے دکھانے کا ذکر ہے وہاں وہ ساتھ ساتھ یہ کہتے ہیں کہ اللہ کے حکم سے ، اللہ کے حکم سے ، میرا اس میں کوئی دخل نہیں۔تو داعی الی اللہ کا کام عام حالات میں آسان دکھائی دیتا ہے۔مگر نتیجہ پیدا کرنے کے لحاظ