خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 10
خطبات طاہر جلد ۱۱ 10 خطبہ جمعہ ۳ / جنوری ۱۹۹۲ء مسلمان دس کروڑ یا شاید اس سے بھی زائد ہیں۔یوں لگتا ہے کہ جیسے بے سر کا جسم ہے جو بظاہر زندہ رہ رہا ہے لیکن اس میں بیجہتی نہیں ہے۔جیسے ایک سر سے اعضاء میں بیجہتی پیدا ہوتی ہے۔جیسے دماغ انگلیوں کے پوروں تک اثر دکھاتا ہے اور سارا جسم ایک جان ہو کر رہتا ہے ویسی کیفیت ہندوستان کے مسلمانوں میں دکھائی نہیں دیتی۔پس اس پہلو سے جماعت احمدیہ کے لئے اور بھی ضروری ہے کہ مسلمانوں کی راہنمائی کرے اور ان کو وہ سر مہیا کرے جو آسمان سے ان کے لئے نازل ہوا ہے یعنی مہدی اور مسیح کا سر جس کے بغیر نہ ان کو زندگی کے سلیقے آئیں گے نہ ان کو دنیا میں پنپنے کے ڈھنگ آئیں گے۔جس حال میں یہ بد نصیب لیڈرشپ کی غلط راہنمائی کے نتیجہ میں بار بار دکھ اٹھارہے ہیں اور بے شمار تکلیفوں کے دور میں سے گزر رہے ہیں یہاں تک کہ ایسی Tunnel ہے جس کے پرلی طرف کوئی روشنی دکھائی نہیں دیتی۔اس ساری صورتحال کو درست کرنے کی صلاحیت احمدیت میں ہے اور احمدیت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔اس پہلو سے بھی ہمیں ہندوستان کی طرف غیر معمولی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔جب ہم توجہ دے رہے ہیں اور دیں گے اور اور زیادہ دیتے چلے جائیں گے تو لازماً یہاں مخالفت کی بھی نئی لہریں اٹھیں گی۔اب جب میں قادیان کے جلسہ کے لئے حاضر ہورہا تھا تو معلوم ہوا کہ یہاں کے بعض بڑے بڑے علماء جنہوں نے اپنے آپ کو احمدیت کے خلاف وقف کر رکھا ہے وہ پاکستان پہنچے اور وہاں کے ان مولویوں سے جو مغلظات بکنے میں چوٹی کا مقام رکھتے ہیں مشورے کئے ، سر جوڑے، حکومت پر وہاں بھی ہر قسم کے دباؤ ڈالے گئے اور یہاں بھی ڈالے گئے کہ کسی طرح اس جلسہ کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر دو ورنہ احمدیت کو غیر معمولی ترقی نصیب ہوگی۔لیکن خدا تعالیٰ نے ان کے سب ارادوں کو نا کام کر دیا لیکن پاکستان میں اس کا رد عمل ابھی اور زیادہ چلے گا اور معلوم ہوتا ہے کہ کافی شدت کے ساتھ ظاہر ہوگا کیونکہ ان مولویوں کا دل بہت ہی چھوٹا ہے اور نیکی کو پنپتے ہوئے وہ دیکھ ہی نہیں سکتے۔یہ عجیب بیماری ہے کہ اسلام کے نمائندہ ہیں لیکن بدیوں کو پنپتے ہوئے دیکھتے ہیں تو ان کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی گلی گلی میں Drug Addiction ہورہی ہے، عورتوں کی عزتیں ختم ہو گئیں، چھوٹے بچوں کا تحفظ جاتارہا، اغواء کی وارداتیں ہورہی ہیں ، ڈاکو دن دھاڑے جہاں چاہیں جس کو چاہیں لوٹیں۔ایک ایسی بدامنی کی کیفیت ہے کہ بسا اوقات یہ سوال بار بار