خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 9 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 9

خطبات طاہر جلد ۱۱ 9 خطبہ جمعہ ۳ / جنوری ۱۹۹۲ء بڑھا دکھائی دے گا، یہ مسیح کی تمثیل بھی ہے اور مہدی بن کر بھی آیا ہے۔انبیاء سے تمام دنیا میں جتنے بھی وعدے کئے گئے تھے وہ آج قادیان کی بستی میں اس ذات میں پورے ہورہے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے مامور فرمایا ہے۔پس اس پہلو سے ہندوستان کا ایک مرکزی اور دائمی حق ہے جسے نظر انداز کرنا ہماری غلطی تھی۔دیگر ممالک میں پہنچے۔افریقہ اور امریکہ اور سپین اور یورپ کے ممالک میں مساجد تعمیر کیں اور اذانیں دیں اور اسی بات پر مطمئن رہے کہ خدا کے فضل سے افریقہ کے بعض ممالک میں جماعت اس تیزی سے ترقی کر رہی ہے کہ بعید نہیں کہ آئندہ چند سالوں میں وہاں جماعت کو کلی اکثریت حاصل ہو جائے۔یہ سب باتیں اپنی جگہ اطمینان بخش ضرور ہیں مگر ہندوستان کو نظر انداز کرنا ہر گز جائز نہیں تھا اور عقل کے تقاضوں کے خلاف تھا کیونکہ جو اہلیت اور صلاحیت ہندوستان میں جماعت احمدیہ کی نشوونما کی ہے، وہ شاید ہی دنیا کے کسی اور ملک میں ہو۔یہاں دنیا کے مختلف مذاہب آزادی کے ساتھ اپنے اپنے مافی الضمیر کو بیان کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔یہاں جو بظاہر مذہبی فسادات ہوتے ہیں الا ماشاء اللہ، وہ دراصل سیاسی گروہ بندیوں کے نتیجہ میں اور چھوٹی چھوٹی چپقلشوں کے نتیجہ میں ہوتے ہیں ورنہ ہر مسلمان کو آزادی ہے کہ اپنی مساجد میں اذانیں دے جس سے چاہے اسلام کی بات کرے۔جس طرح چاہے اپنے اسلام کا اظہار کرے۔کسی فرقے پر کوئی قدغن نہیں۔یہی قادیان کی بستی ہے اس میں صبح کے وقت آپ تہجد کی نماز کی تلاوت بھی لاؤڈ سپیکر پر سنتے تھے۔یہاں بھجن بھی ساتھ گائے جارہے تھے۔یہاں گردواروں سے تقریریں بھی کی جارہی تھیں۔میوزک بھی ساتھ ساتھ چل رہی تھی۔عیسائی بھی اپنے اپنے رنگ میں اپنے خدا کو یاد کر رہے تھے اور کبھی نہ کسی احمدی کو اس کی تکلیف ہوئی نہ کسی غیر احمدی کو، نہ ہند وکو، نہ سکھ کو ، سارے اس بات پر خوش تھے کہ جس کو جس طرح بھی توفیق مل رہی ہے آخر وہ خدا کو یاد کر رہا ہے۔ہمیں کیا حق ہے کہ اس پر اعتراض کریں۔یہ وہ ماحول ہے جو ہندوستان میں خدا تعالیٰ کے فضل سے تبلیغ کے لئے بہت خوش آئند ہے اور اگر جماعت احمد یہ صیح طریق پر یہاں کام شروع کرے تو خدا کے فضل سے بہت تیزی کے ساتھ تمام ہندوستان میں نفوذ ہوسکتا ہے۔یہاں جو مسلمان لیڈر شپ ہے وہ بد قسمتی سے اتنی کمزور ہو چکی ہے کہ باوجود اس کے کہ