خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 143 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 143

خطبات طاہر جلد ۱۱ 143 خطبه جمعه ۲۸ فروری ۱۹۹۲ء دیتا ہے کہ فلاں شخص نے جرم کیا یا فلاں شخص معصوم ہے اس کی گواہی سے اس کے اعمال کی برائی یا اچھائی ثابت ہوتی ہے اور اس کے نتیجہ میں اس سے ویسا ہی سلوک کیا جاتا ہے۔تو نبی کی گواہی سے مراد یہ ہے کہ نبی کے اعمال ، اس کے اخلاق ، اس کے اسوۂ حسنہ پر ان لوگوں کو پرکھا جائے گا اور اس پہلو سے آپ کا زمانہ ماضی پر بھی ممتد ہے یعنی تمام انبیاء کی سچائی کے آپ ﷺ گواہ ہیں آپ کی کسوٹی پر انبیاء کی صداقت کو اور ان کے مرتبے اور مقام کو پر کھا جائے گا۔اب دیکھئے اس بات کا آیت خاتم کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔خاتم کا معنی ہے تصدیق کرنے والا تو تصدیق گواہ کیا کرتا ہے اور اگر وہ پختہ تصدیق ہو تو مہر کے ذریعہ اس کا مزید اثبات ہوتا ہے ورنہ بنیادی طور پر تصدیق اور گواہی ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔تو خاتم سے مراد یہ ہوئی کہ ایسا گواہ آیا جو اگلوں پچھلوں ، اس زمانے اور اُس زمانے سے تعلق رکھنے والوں کے لئے اور تمام جہانوں کے لئے ایک کسوٹی بنا دیا گیا۔اس کے اعمال ، اس کے اخلاق ، اس کی نصیحت ، اس کی ہدایات پر تمام گزشتہ انبیاء کے اعمال بھی پر کھے جائیں گے اور ان کے مقامات کی تعیین کی جائے گی اور آئندہ آنے والوں کے لئے بھی اور اس زمانے میں بھی ان سب کے جو خدا کے حضور کسی رنگ میں جوابدہ ہیں آنحضرت ﷺ کے نمونے کے مطابق اور اس کے پیش نظر فیصلہ کیا جائے گا کہ وہ کس مرتبے کس مقام سے تعلق رکھتے ہیں بخشش کے لائق ہیں یا سزاوار تو شاهدا سے مراد یہ ہے جس - کا گہرا تعلق لفظ خاتم سے ہے۔وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا ان معنوں میں جب کوئی شاہد بنتا ہے تو بعضوں کے لئے وہ خوشخبریاں لے کر آتا ہے اور بعضوں کے لئے وہ انذار لے کر آتا ہے یعنی ان کو ڈراتا ہے۔جس کا مطلب دو طرح سے ہے۔وہ جو گزر گئے یا جن تک براہ راست آنحضرت میاہ کی رسائی نہیں ہوئی ان کے متعلق تبشیر اور انذار کا معاملہ ان کی عاقبت سے تعلق رکھتا ہے وہ خوش نصیب ہیں جو آنحضور ﷺ کے اسوہ کے مطابق بخشش کے لائق ٹھہرائے گئے اور وہ بدنصیب ہیں جو اس امتحان میں صلى الله پاس نہیں ہو سکے ، اس پر پورا نہیں اتر سکے۔تو اُن کے لئے بشارت اور ڈرانا یہ دونوں چیز میں اس دنیا میں فائدے کا موجب تو نہیں بن سکتیں لیکن ان کے انجام کے متعلق گواہ بن جاتی ہیں لیکن بہت سے ایسے لوگ ہیں جن تک نصیحت پہنچتی ہے اُن کے لئے بشیر اور نذیر ہونے کا مضمون یہ ہے کہ اگر تم