خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 140 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 140

خطبات طاہر جلد ۱۱ 140 خطبه جمعه ۲۱ فروری ۱۹۹۲ء ہوا ہے کہ جن کے متعلق ہم یہ سمجھتے تھے کہ ان کے دل میں اسلام کے لئے کوئی نرم گوشہ نہیں ہے۔قادیان جانے کے نتیجہ میں یہ پتا لگا کہ سب کے دلوں میں دروازے کھلے ہوئے ہیں کوئی پیغام پہنچ ہی نہیں رہا اور دل پیاسے ہیں متمنی ہیں ، دور دراز سے سکھوں کے بھی ہندوؤں کے بھی حیرت انگیز خط آتے ہیں۔وہ میاں وسیم احمد صاحب کو قادیان خط لکھتے ہیں۔کئی لوگوں نے ٹیلی ویژن پر تقریر میں سنی ہیں، کمٹی نے قادیان کے جلسے خود دیکھے ہیں اور بہت سے ایسے ہیں جو یہ لکھتے ہیں کہ ہم نہیں جا سکے مگر قادیان والے کچھ ہمارے واقف ہیں۔وہ آکر ہمیں باتیں بتاتے ہیں اور بعض یہ بھی لکھتے ہیں کہ ہم دوکاندار ہیں ہمارے پاس دوسرے دوکاندار آتے ہیں اور وہ آکر یہ باتیں کرتے ہیں۔ایک میڈیکل سٹور والے کا خط تھا کہ میں دوائیاں بیچتا ہوں اور قادیان سے کئی دفعہ مریض آتے ہیں اور آتے ہی وہ قادیان کی باتیں شروع کر دیتے ہیں کہتے ہیں کہ قادیان والے تو ہم نے اب دیکھے ہیں کہ کیا چیز ہیں اور اگر امن ہے تو جماعت احمدیہ سے ہوگا اور کسی ذریعہ سے نہیں ہوگا۔تو دل تو تیار بیٹھے ہوئے ہیں۔آپ میں روشنی ہوتو وہ روشنی دلوں میں جائے گی ناں۔وہ نور پیدا کریں جس کے بغیر اندھیرے دور نہیں ہوا کرتے۔چھوٹا سہی جگنو ہی کا نور سہی مگر جگنو کی طرف بھی تو لوگ لپکتے ہیں اور اس سے پیار کرتے ہیں۔آپ سے بھی اسی طرح دنیا پیار کرے گی اور آپ کے نور سے اپنے سینوں کو روشن کرے گی۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین