خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 132 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 132

خطبات طاہر جلدا 132 خطبه جمعه ۲۱ فروری ۱۹۹۲ء کے رستے دشمن مجھ پر حملہ آور ہو گا اس لئے اپنی کمزوریوں کا با قاعدہ چارٹ بنا نا ہوگا۔کھلا کھلا نہیکھیں لیکن اپنے علم میں ضرور لے آئیں، ذہن میں ان چیزوں کو حاضر کرلیں اور ان کو دور کرنے کے منصوبے کا نام تقویٰ ہے۔وہ ہوگا خدا کی مدد سے اور خدا کے فضل سے لیکن آپ کے ذہن میں وہ باتیں حاضر ہوں گی تو پھر اگلا قدم اٹھے گا ورنہ اس ابتدائی تعریف میں آپ متقی نہیں قرار دیئے جاسکتے۔سچے دل سے ، خلوص نیت کے ساتھ نیکی کی کوشش کرنا تقویٰ ہے لیکن نیکی کیا ہے؟ اس کا آغاز ہے بدیوں سے بچنا، اور بدیوں سے بچنے کے لئے بدیوں کا علم ہونا ضروری ہے۔پس قرآن کریم کے ایک ایک لفظ میں اگر آپ اتر کر دیکھیں تو اور بہت سی نئی راہیں دکھائی دینے لگتی ہیں۔آپ کے سامنے کئی ایسے ایوان کھلتے ہیں جن میں آپ نے پہلی دفعہ جھانک کر دیکھا ہوتا ہے۔پس ہر داعی الی اللہ کو اپنی کمزوریاں دور کرنے کا باقاعدہ منصوبہ بنانا چاہئے اور ان کو لکھنا چاہئے۔وہ بھی جو بیرونی کمزوریاں ہیں اور جن کا معاشرے سے تعلق ہے اور جو اندرونی کمزوریاں ہیں وہ بھی بہت اہمیت رکھتی ہیں۔بیرونی کمزوریوں کا تعلق زیادہ تر آپ کی ذات سے ہے۔آپ جب کسی کو دعوت دیتے ہیں اور آپ لین دین میں بدنام ہیں تو لاکھ دعوتیں دیتے پھریں لوگوں کو پتا ہے کہ یہ لین دین کا کچا آدمی ہے باتیں بناتا ہے۔اگر مبالغے کی عادت ہے۔جھوٹ بول دیتے ہیں تو آپ کی بات کا اعتماد اٹھ جائے گا، اس میں وزن نہیں رہے گا، آپ جتنی مرضی چرب زبانی استعمال کریں جھوٹے کی بات کا وزن ہی کوئی نہیں ہوتا اور دیکھا گیا ہے کہ ایک آدمی خوب باتیں کر کے سمجھتا ہے کہ میں نے ساری مجلس کو مسحور کر لیا لیکن جب وہ مجلس چھوڑ کر جاتا ہے تو سارے ہنس پڑتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بڑا ہی گئی ہے ، بڑا ہی جھوٹا ہے اور وہ سمجھتا ہے لوگ مسحور ہو گئے ہیں لیکن لوگ دل میں سوچ رہے ہوتے ہیں کہ جائے تو ہم بتائیں کہ یہ ہے کیا ؟ اور سچا آدمی چھوٹی سی بات کرتا ہے۔بظاہر لوگ رد بھی کر دیتے ہیں ، ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ اس نے بات کی ہے کسی پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔بعض مخالفت کرتے ہیں لیکن سچی بات دل میں ڈوبنے کی تاثیر رکھتی ہے۔اس وقت نہیں تو کچھ اور دیر کے بعد سچی بات اپنا اثر ضرور دکھاتی ہے یا دکھانے کی کوشش کرتی ہے، اس میں طاقت ہے۔پس بیرونی تعلقات میں اس قسم کی کمزوریاں دور کرنا فہرست کے اول پر آئے گا۔جن کے نتیجہ میں آپ بدنام ہوں اور آپ کی نیک بات کا اثر نہ پڑے اور اس کا زیادہ تر آپ کی ذات سے