خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 125 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 125

خطبات طاہر جلد ۱۱ 125 خطبه جمعه ۲۱ فروری ۱۹۹۲ء لڑکھڑا دیں گویا کہ اپنے پیغام کا حق ادا کرنے کے اہل نہ رہو۔اَوْ يَقْتُلُوكَ یا تجھے قتل کر دیں۔یہ پہلے منصوبے کی ناکامی کالازمی نتیجہ ہے۔اگر تیرے ثبات قدم کو وہ نقصان نہ پہنچاسکیں تیرے قدم نہ لڑکھڑا ئیں تو پورے عزم اور قوت کے ساتھ ، پوری شان کے ساتھ ، پورے صبر کے ساتھ ، پورے حو صلے اور تو گل کے ساتھ ، اپنے مقصد کی پیروی میں ثابت قدم رہے تو پھر ان کے لئے کوئی چارہ نہیں رہے گا سوائے اس کے کہ تیرے قتل کا منصوبہ بنائیں اور اگر تل میں ناکام ہوں تو يُخْرِجُوكَ كم سے کم اتنا تو ضرور کریں کہ تجھے ملک بدر کر دیں۔یہ ایک طبعی ترتیب ہے جس کا انسانی نفسیات سے گہرا تعلق ہے۔بالکل اسی طرح دشمن الہی جماعتوں کا مقابلہ کیا کرتا ہے اور اسی طرح آغاز ہوتا ہے ، اسی طرح اس کا وسط آتا ہے ، اسی طرح اس کا انجام ہوتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر پیغام کو دلائل کے ذریعہ اور منطقی طاقتوں کے ذریعہ ناکام کیا جا سکے تو کوئی نہیں جو بے وجہ تلوار کو ہاتھ میں اٹھائے اس لئے تلوار ہاتھ میں لینے کا خیال آتا ہی اس وقت ہے جبکہ دشمن دلائل کی دنیا میں کلیہ نامراد ہو چکا ہوتا ہے۔پس جب وہ نامراد ہوگا تو کیا کرے گا۔جب ایمان سے تمہیں متزلزل نہ کر سکے اور اپنے منصوبوں میں تم ثابت قدم رہو تو پھر تلوار اٹھتی ہے اس کے سوا اس کے پاس کوئی چارہ نہیں اور اگر تلوار ناکام نظر آئے اور ایسے حالات نہ پیدا ہوں کہ ان کے دشمن کو تلوار کے ذریعہ نیست و نابود کیا جا سکے تو پھر ملک بدر کرنے کی ضرور کوشش کرتے ہیں کہ یہ فتنہ ملک سے باہر ہی نکل جائے اور مصیبت سے ہمارا پیچھا چھوٹے اور تو کوئی راہ نہیں ہے۔فرمایا یہ تین منصوبے ہیں جو وہ تیرے خلاف بنارہے ہیں وَيَمْكُرُونَ اور ہم پھر تاکیڈا بتاتے ہیں کہ وہ مسلسل دن رات مکر کرنے میں مصروف ہیں۔نا پاک منصوبے بنانے میں وہ دن رات لگے ہوئے ہیں لیکن وَيَمْكُرُ الله ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ اللہ بھی ان منصوبوں کا تو ڑ کرتا چلا جا رہا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ منصوبے جو دشمن بنا تا ہے اس کی اگر مومن کو اطلاع نہ بھی ہو تو خدا تعالیٰ ان منصوبوں کا تو ڑ کر رہا ہوتا ہے اس لئے مومن کے منصوبے بناتے وقت یہ ضروری نہیں ہے کہ اس کی کامیابی کا انحصار Intelegence پر ہو۔دشمن کے منصوبوں پر اطلاع کے نتیجہ وہ منصوبے بنا رہا ہوتا ہے۔اس نے مثبت پہلو میں منصوبے بنانے ہی ہیں کیونکہ اللہ کی پیروی کرتا ہے لیکن دشمن بھی مسلسل منصوبے بنانے میں مصروف ہے۔اگر ان منصوبوں پر مومن کو اطلاع