خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 8
خطبات طاہر جلد ۱۱ 8 خطبہ جمعہ ۳ / جنوری ۱۹۹۲ء زندہ ہیں اور احمدیت کے ساتھ زندہ تو رہیں گے لیکن اتنے کمزور ہیں کہ وہ احمدیت کی زندگی سے اپنے ماحول کو زندہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔اب جو لوٹے ہیں تو ان کی کیفیت یکسر بدل چکی تھی۔ان میں سے بہت تھے جنہوں نے مجھ سے کہا کہ اب زندگی کا ایک بالکل نیا دور شروع ہوا ہے۔اب آپ دیکھیں گے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ کس طرح ہندوستان میں چاروں طرف احمدیت کانور پھیلائیں گے۔اب گزشتہ زمانوں اور آئندہ زمانوں میں ایک نمایاں فرق پڑ چکا ہے اور یہ جلسہ اس کی حد فاصل ہے۔پس اس پہلو سے یہ جلسہ ایک تاریخ ساز جلسہ ہے۔میری دعا ہے کہ ان کے ولولے ہمیشہ زندہ رہیں۔جہاں تک منصوبوں کا تعلق ہے ان کو تفصیل کے ساتھ سمجھا دیا گیا ہے کہ کس طرح منصوبے بنانے ہیں۔کس طرح ان پر عمل درآمد کرنا ہے۔ان کو یقین دلا دیا گیا ہے کہ اگر چہ ظاہری طور پر آپ غریب ہیں اور بڑے بڑے اُمید افزا اور تمناؤں سے بھر پور منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کی طاقت نہیں رکھتے لیکن کھلے دل کے ساتھ خوب منصوبے بنائیں اور بالکل پرواہ نہ کریں کہ ان پر کیا خرچ آتا ہے۔عالمگیر جماعت احمد یہ خدا کے فضل سے غریب نہیں ہے اور ساری عالمگیر جماعت احمد یہ آپ کی پشت پر کھڑی ہے۔تمام عالمگیر جماعت احمد یہ ہمیشہ قادیان کی ممنون احسان رہے گی اور ان درویشوں کی ممنون احسان رہے گی جنہوں نے بڑی عظمت کے ساتھ ، بڑے صبر کے ساتھ ، بڑی وفا کے ساتھ اس امانت کا حق ادا کیا جو اُن کے سپرد کی گئی تھی اور لمبی قربانیاں پیش کیں۔اس لئے آپ کو کوئی خوف نہیں ، آپ کو کوئی کمی نہیں۔اللہ کے فضل کے ساتھ جتنے مفید کارآمد منصوبے آپ بنا سکتے ہیں اور ان پر عمل کر سکتے ہیں ، انشاء اللہ تعالیٰ ان کی تمام ضرورتیں عالمگیر جماعتیں پوری کریں گی اور میں سمجھتا ہوں کہ ہندوستان اس لحاظ سے بہت حد تک نظر انداز ہوتا رہا ہے۔اس میں ہم سب کا قصور ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں معاف فرمائے۔ہندوستان کا اپنا ایک حق تھا جسے ہمیشہ قائم رکھنا چاہئے تھا۔ہندوستان وہ جگہ ہے جہاں خدا تعالیٰ نے آخرین کا پیغامبر بھیجا جو ہر مذہب کا نمائندہ بن کر آیا۔جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا جَرِى اللهِ فِى حُلَل الانبیاء ( تذکر صفحه ۶۳) کہ ایک شخص دکھائی دیتا ہے مگر خدا کا پہلوان ہے جو تمام انبیاء کے چونے اوڑھے ہوئے آیا ہے۔اسی میں تمہیں کرشن دکھائی دے گا ، اسی میں تمہیں